میرا امیر تیرہ و تاریک راہوں میں قوم کی رہبری کرنے والا جگنو،ظلم کے طوفانوں میں ڈٹ جانے والا مردِ آہن، ناانصافی کی آندھیوں میں ثابت قدم رہنے والا چراغ، چمن کو اجاڑنے پر آمادہ جھکڑوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار، دشمنانِ اسلام کے لئے برہنہ شمشیر اور منافقین کے دلوں میں ہمیشہ کھٹکنے والا کانٹا ھے۔
رخِ روشن سے عشقِ سرورِ کونین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ
وسلَّم جھلکتا ہے۔کشادہ پیشانی سے حکمت و دانائی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔چشمِ دلنشیں سے بصیرت کی جھلک نمایاں ہے۔گیسوئے سیاہ کی تب و تاب سے شبستانِ دل چمک اٹھتا ہے۔لبِ لعلیں کی مہک سے سارا چمن وجد میں آ جاتا ہے۔خوش قامتی سے سرُو شرمندہ شرمندہ نظر آتا ہے۔
تیری آواز کی ہیبت سے ہند کے ایوان لرز جائیں،بحراوقیانوس کے پار بیٹھے ہوئے دشمنانِ اسلام و پاکستان کے سارے منصوبوں کی دھجیاں بکھر جائیں، فرانسیسی گستاخوں کے دل دہل جائیں اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے یہود ونصاریٰ کے گماشتوں کی ریشہ دوانیاں ریزہ ریزہ ہو کر بحرِ ہند کی نذر ہو جائیں۔
اے میرے امیر تیرے ایک اشارۂ ابرو پر لاکھوں سرفروشانِ دینِ مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر میدانِ کارزار میں اتر جانا اپنے لئے باعثِ صد سعادت سمجھتے ہیں۔
اے محمد بنِ قاسم کی غیرت اور طارق بن زیاد کے تیقن کے وارث، عبد الرحمٰن کی ہمتوں، یوسف بن تاشفین کی شجاعت اور غزنوی و غوری کی شمشیر کے پاسبان،ابدالی کی روایات کے رکھوالے اور اقبال کے شاہین تجھے سلام!
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کی ختم نبوت و ناموس کے محافظ،سیدناخالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام، عصرِ حاضر کے امام،پروردۂ آغوشِ ولایت، سعدِ باسعادت، راحتِ دل،جانِ محفل،مسلمانوں کی امیدوں کے مرکز،قوم کے دلوں میں بسنے والے مہرِ تاباں، عوام کی سیاہ بختی کو مٹانے کے لئے خونِ جگر دینے والے ماہِ ضو فشاں اور مصائب کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کے لئے گوہرِ اشک لُٹانے والے انجمِ رخشاں قائدِ ملتِ اسلامیہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی دامت برکاتہم العالیہ کو یوم ولادت مبارک ہو!
21 ستمبر 1994 یوم ولادت قائد ملت اسلامیہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب!
اللّٰہ تعالٰی اس مجاہد کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھے۔آمین!

