زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے | ثناء اقبال

 زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے...

آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے۔۔۔ 

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛

مسلمانوں اٹھو اپنے دین کی حفاظت خود کرو اٹھو اپنے قرآن کی حفاظت خود کرو اٹھو ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر پہرہ دو۔۔ اب صرف فریادوں سے یہ جال نہیں ٹوٹیں گے۔کبھی بھی خالی دعاؤں سے اسلام پر پہرہ نہیں دیا جا سکتا اسلام کی اور اپنے قرآن کی حفاظت کے لیے خود زور بازو آزمانہ پڑے گا۔۔ کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے دین کی حفاظت کرنی پڑے گی۔۔


تاریخ گواہ ہے ہمارے اسلاف نے اسلام کی حفاظت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی سر بلندی کے لیے ہمیشہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے جان و مال عزت و آبرو سب کچھ قربان کر کے ہمیشہ اسلام کے علم کو بلند رکھا!! 

Sana Iqbal Column

لیکن آج کا مسلمان فقط نماز روزے کی پابندی کرنے کو ہی مکمل دین سمجھتا ہے۔دنیا بھر میں اسلام دشمن اسلام مخالف پروپیگنڈے کرنے میں مصروف ہیں۔۔آئے روز گستاخیاں کرتے ہیں یہاں تک کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کو جلا دیا جاتا ہے ایک بار نہیں عالَم کفر کی جانب سے یہ گستاخی یہ بے حرمتی بار بار کی جا رہی ہے لیکن حکمران اور عوام کی جانب سے مذمت کے علاؤہ کوئی رد عمل سامنے نہیں آتا۔۔جبکہ اسلام کو تو ہر دور میں صلاح الدین ایوبی کی ضروت ہے نور الدین زنگی کی ضرورت ہے محمد بن قاسم کی ضروت ہے۔یوسف بن تاشفین کی ضرورت ہے۔اور قیامت تک رہے گی۔عالم کفر ہمیشہ سے مسلمانوں کا دشمن رہا ہے اور رہے گا اس کا جواب دینے کے لیے تلوار اٹھا کر زور بازو آزما کر ہی اپنے دین کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔لیکن آج کے مسلمان اپنے اسلاف کی تاریخ کو یاد رکھ کر آنے والی نسلوں کو صلاح الدین ایوبی جیسا جذبہ دینے کے بجائے امن کا درس دے کر اسلاف کی تاریخ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔حج ادا کرنے ہر سال جاتے ہیں لیکن ناموسِ رسالتﷺ کا مسئلہ سمجھانے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ 


ہم تیری جالیوں کی مدحتوں میں مگن رہے۔۔ 

تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا۔۔ 

Columnist Sana Iqbal Column

 پوری دنیا میں اسلام کا مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کہیں گستاخیاں اور کہیں کشمیر٫ برما سمیت پوری دنیا میں مظلوم مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ستاون اسلامی ممالک کے کسی ایک حکمران کی جانب سے اعلان جہاد نہیں کیا جاتا۔۔

فرمان قبلہ امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ ؛

وہ اپنی انگریزی کی کتابیں نہیں جلنے دیتے وہ قرآن پاک کو کیوں جلاتے ہیں؟ تم ذمہ دار ہو اس کے ستاون اسلامی ممالک کے حکمران قرآن پاک کی بے حرمتی کے ذمہ دار ہیں۔

جن کا بیان مذمت سے آگے کچھ نہیں ہوتا۔۔

ایک طرف نواسہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خاطر مبارک تلوار اٹھا کر کربلا کی طرف چلے جائیں اپنا سب کچھ اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر قربان کر کے دین بچا لیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے گستاخیاں ہوتی رہیں مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی جائے اور مسلمان گونگے شیطان بنے رہیں تو روز حشر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیں گے !!

آج بھی موقع ہے دین کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ ظالم اشرافیہ کے خلاف کھڑے ہو جاؤ جن کا مقصد صرف اور صرف اقتدار میں آکر اسلام کے ساتھ غداریاں کرنے اور ملک نوچ کھانے کے سوا کچھ نہیں۔ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کے لیے ایک مقدس مشن کے ساتھ وابسطہ ہو کر ہی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دین کو تخت پہ لا کر ہی عالم کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جاسکتی ہے اور ان کی گستاخیوں کا جواب خالی مذمت سے نہیں صرف اور صرف جہاد سے دیا جا سکتا ہے۔!!!

از قلم ؛ ثناء اقبال 
Columnist Sana Iqbal

Post a Comment

Previous Post Next Post