بانئ تحریک لبیک یا رسول اللّٰہﷺ(پاکستان) امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللّٰہ علیہ کا پاک نیوز چینل کو دیا گیا انٹرویو
سوال نمبر ۱:ایک حلقہ جو تین دہائیوں سے شریف خاندان کا ہوم گراؤنڈ رہا ہے آپ کو اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا خیال کیوں آیا؟
جواب:ہم اس حلقے سے نہیں پاکستان سے الیکشن لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں اور صرف شریف خاندان ہی نہیں نظریہ پاکستان، ناموس رسالت اور ختم نبوت کے خلاف جو کوئی بھی بات کرے گا اس کے خلاف ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے ناموس رسالت کے مسئلے میں غازیِ اسلام کو تختہ دار پر لٹکایا، مسجدوں کے سپیکر اتارے اور منکرین ختم نبوت کو بہن بھائی کہا۔
سوال نمبر ۲:آپ سیاست میں کس طرح قدم رکھ رہے ہیں؟
جواب:مذہب اور سیاست جدا جدا نہیں،ہمارے آقا و مولا حضور پر نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بھی سیاست فرمائی اور آپ کے خلفاء نے بھی سیاست فرمائی۔ہم انہی اطوار پر سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں۔
سوال نمبر ۳:آپ تیسری بڑی جماعت ہیں جس کو سب سے زیادہ ووٹ ملے، اتنے ووٹ ملنا باقی جماعتوں پر کیا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے؟ کیونکہ اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی جیتی تھی اور جماعت اسلامی کا بھی بہت زیادہ ووٹ بینک تھا ان کو کیا ہوا؟
جواب:اقبال قلندر لاہوری نے یہ کہا تھا
نکل کر صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹا دیا تھا
سنا ہے قدسیوں سے میں نے کہ وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
اس کا مطلب اسلام ہے، انہوں نے اسلام اور پاکستان کے ساتھ غداری کی، بہت سے معاملات میں دھاندلی کی۔ اب عوام کا ان سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔وقت بتائے گا کہ پاکستان کے اندر سکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا چلے گا۔




