عشق رسول ناخدا ہے سفینہ برگ گل کا

 ‏عشقِ رسول ناخدا ہے سفینہ برگِ گل کا

مجدد الف ثانی، شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ:

معاملہ کی حقیقت یہ ہے کہ محبوب حقیقی کی طر ف سے جو کچھ آئے ، کشادہ پیشانی اور فراخ دلی سے احسان کے ساتھ اس کو قبول کر لینا چاہیے، بلکہ اس سے لذت حاصل کرنی چاہیے۔ وہ رسوائی اور بے ناموسی جس میں محبوب کی مراد ہو محب کے نزدیک اس ننگ و ناموس و عزت سے بہتر ہے جس میں محِب کے اپنے نفس کی مراد ہو، اگر یہ محب کو حاصل نہیں تو محبت میں ناقص بلکہ کاذب ہے۔

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آسان الفاظ میں ایک معیار بیان فرما دیا تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ حقیقی محِب کون ہے، محبت سچی کس کی ہے، اور محِب کے دعویٰ محبت پر محِب کا عمل کیسے گواہ ہونا چاہے، اگر یہ تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تو بات طے شدہ ہے کہ محِب کا دعویٰ محبت کاذب ہے، جھوٹا ہے، محض دکھاوا اور دھوکا ہے۔

عصرِ حاضر میں غازی ملک ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے گستاخِ رسول تاثیر ملعون کو واصل جہنم کر کے، اور اپنے عمل پر استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، تختہ دار پر جھول کر آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اپنے عمل سے ایفائے عہد کیا، اور وہ فرض جو پوری امت پر قرض بن کے لٹک رہا تھا، کہ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ناموس پر پہردہ داری کی جائے، وہ قرض غازی ملک ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اکیلے ادا کر دیا، اور امت کو آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ نبوت میں سرخرو کیا۔

یہ غازی ملک ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عشق ہی تھا کہ جب عالمِ کفر امتِ مسلمہ کا تعلق روحِ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم سے منقطع کر کے ابدی ہلاکت میں متبلا کرنے کی سعی جا ری رکھے ہوئے تھا، تو عاشقِ صادق غازی ملک ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے عشق سے امت کی اس پستی کو بالا کر دیا، اور آپ کی اس عظیم قربانی نے امتِ مرحومہ میں ایک ایسی تحریک پیدا کی کہ چار دانگِ عالم کفر کے ایوانوں میں ہلچل مچا کے رکھ دی۔

بہترین امر ہو گا کہ دانائے راز، سیاسی مجدد، حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا جائے کہ غازی ملک ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس کارہائے عشق و مستی کو آپ کیا کہتے ہو؟ اور یقینا مجددِ دوراں، امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ضرور اپنے انداز سے پوچھا ہو گا کہ :


دس اوئے اقبال، ایہہ کی اے،،،،، تو دانائے راز، سیاسی مجدد، حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ضرور فرمایا ہو گا کہ یہ عشق و مستی کا وہ راز ہے جو میں پہلے ہی بیان کر گیا ہوں کہ:

دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے 


کفر کا وہ نطام جس کے نفاذ کی خاطر عالمِ کفر گزشتہ 600 سال سے کثیر جدو جہد کرتا آ رہا ہے، جس کے نفاذ کی خاطر عالمِ کفر نے گزشتہ صدی 10 کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو جنگوں میں قتل کیا، بھوک، افلاس، ابتلا و آزمائش سے جو لوگ قتل ہوئے، بے گھر ہوئے ان کی تعداد الگ سے ہے، جس کی خاطر عالمِ کفر نے 9/11 کے بعد افغانستان، عراق، شام، لیبیا، مصر، یمن غرضیکہ کہ پورے عالمِ اسلام کو لہو لہو کر دیا تھا، 1 کروڑ 10 لاکھ مسلمان شہید کئے، غازی ملک ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایک عشق و مستی سے بھر پور وار کی تاب نہ لا سکا، اور شہید کی شہادت نے قوم کو حیات دی، اور امتِ مرحومہ کو عالمِ کفر کے اس نظام کو جذبہ عشق سے تہہ و بالا کر دینے کا آفاقی پیغام دیا، اور اس مرحوم امت میں وہ روح پھونکی کہ ان غربا نے مثل مورِ ناتواں، سفینہ برگِ گل بنا کے کفر کی ظلمتوں کے سمندر میں اپنے بادبان کھول دیئے، اور کفر کے بحرِ ظلمت کی ہلاکت خیز موجوں اور فتنوں سے لڑتا یہ سفینہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

تحریر: ابو محمد قاسم الحسن سیفی

Post a Comment

Previous Post Next Post