تحریک لبیک پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے نام اہم پیغام، سوشل میڈیا پر کام کا طرح کیا جائے اور سماجی پلیٹ فارمز کا مفید استعمال
تحریر از _ عبدالمصطفٰی رضوی
سوشل میڈیا دو مختلف میڈیم پر مشتمل پلیٹ فارم ہے اس کا ایک حصہ ذاتی ، دوسرا عوامی ہے پہلا ذکر ذاتی پیغام رسانی کے لئے ہوتا ہے دوسرا کوئی بھی اپنی رائےکا اظہار کر سکتا ہے اور کوئی بھی اس رائےکے ساتھ اتفاق یا اختلاف کرنے کا حق رکھتا ہے
ٹویٹر ، واٹس ایپ ، فیس بک و دیگر پلیٹ فارمز انسان کے مزاج و تابع طبیعت ہیں
اگر جامع معانی کُھل کر اس کی تشریح کی جائے تو یہ انسان کی فطرت کا عکس ہے یعنی اپنی فطرتِ ضمیر کو کھول کر لوگوں کے سامنے رکھ دینا
یہاں محاورہ استعمال کرکے آسان کردیتا ہوں
" برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے "
انسان نے اسی دنیا سے اچھائی و برائی لینی ہے
اچھائی کیلئے کسی اور دنیا میں نہیں جانا نہ برائی کیلئے کسی اور دنیا میں جانا ہے
جو آپ کے اندر ہے وہی دنیا پر ظاہر کریں گے اچھائی یا برائی کی قید سے ماورا
آپ کسی تحریک یا سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں تو آپ کے قول و فعل سے اس کی ترجمانی نظر آئے گی ان کا موقف اپنی طبیعت و فہم کے لحاظ سے دوسروں پر ظاہر کریں گے چاہے کوئی دوسرا اس پر متفق ہو یا نہ آپ اپنی بات کردیں گے
اور اپنی بات پر دوسروں کے اتفاق و اتحاد پر ردِ عمل بھی لیں گے
اب ذرا ٹھہریئے !
جو ذکر کیا گیا وہ تھا سوشل میڈیا کی مختصر تشریح
اب جو ذکر ہے وہ خصوصاً ان لوگوں کیلئے جو اپنے ہیں تحریکِ لبیک یارسول اللّٰہ ﷺ وابستگان ہیں
یاد رکھیں ! آپ جب کسی تحریک کے نظریے اور منشور سے جڑتے ہیں تو آپ اس نظریے کے حامی ہوجاتے ہیں اس کے نمائندے و ترجمان تصور کئے جاتے ہیں
اور اگر اصل معنی سمجھیں تو اس نظریے کے تابع ہوجاتے ہیں ۔ ورکر کبھی اپنی ذاتیات و مفادات کو اپنی ذات کے آڑے نہیں آنے دیتا بلکہ اپنی نفی کرکے اپنی تحریک کا موقف اپناتا ہے اور اسی مطابق قول و فعل اپناتا ہے۔ اپنے رشتہ داران ، دوستوں ، تابع و غیر تابع متعلقین جہاں تک اس کی رسائی ہے اس نظریے کو پہنچانے کا زمہ دار ہوتا ہے
اپنے مرکز سے جڑا رہنا ، اس کے نظریے و بیانیے کی تشہیر کرنا، اسی نظریے و موقف پر عمل کرنا۔ اس سے ہٹ کر اپنی تاویل و فکر کو نظریے کا حصہ نہ بنانا ایک سنجیدہ کارکن کی پہچان ہے
بقول اقبال علیہ رحمہ
مِلت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
کارکن کے ذمہ سب سے اولین کام مرکزیت کے نظریے و بیانیے پر کاربند رہنا ہے اس سے آگے پیچھے پرگز نہیں ہونا
کسی فردِ واحد یا اجتماعی سطح پر بھی وہی موقف بات ہوگی جو مرکز کی طرف سے اپنے کارکن کی رہنمائی کی جائے گی اسے ہدف دیا جائے گا جن ذمہ داریوں میں تقسیم کیا جائے گا
ذمہ داریوں کا تعلق منصب کے حساب سے ہو یا اجتماعی موقف، نظریہ ایک ہی رہے گا
اس پر سمجھوتا نہ تو اراکینِ شورٰی کیلئے ہے نہ علماء کیلئے نہ مرکزی انتظامیہ کیلئے اور نہ ایک خاص و عام سے کارکن کیلئے ہے
منصب کوئی بھی ہو سب سے پہلے ہم اک کارکن ہیں اس بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا
اسی سوچ کو مدِنظر رکھ کر اپنی ذمہ داریوں کو عمل کا لباس پہنائیں
حضور سیدنا امیرالمجاھدین نور اللّٰہ تعالٰی مرقدہ کی تعلیمات کو اپنے ضمیر پر منعکس کریں
ان کے عظیم آفاقی نظریہ کو اپنے اوپر طاری کریں
ان کی محنتِ عشق کو پسِ پشت ڈال کر عوام کے سامنے اپنی ذاتیات ، اختلافات ، اپنی سوچ و فہم کو ہوا نہ دیں ان کے مقصدِ عظیم کو سمجھیں اور سمجھائیں نہ کہ اپنی ذات کی تشہیر و واہ واہ کی خاطر اس نظریے سے بےوفائی کریں
اُن کی وراثت صاحبزادگانِ والا شان سے وابستہ رہیں ان کے مخلصین اکابر سے جڑے رہیں
ان سے سیکھیں سمجھیں اپنائیں اور پھر آگے پھیلائیں اس اصل بات کو جو ہم نے دیکھی، سُنی یا ہم تک مرکزیت سے پہنچی
اس کے علاوہ بس ایک ہی کام ہے
جو ہمیں امامِ غیرت و حمیت حضور سیدنا امیرالمجاھدین نے فرمایا
" اپنے کان بند کریں اور تحریک کا کام کریں
کوئی کیا کررہا اس کو چھوڑیں ، آپ کیا کررہے ہیں یہ دیکھیں "
یعنی ہر اس بات سے اپنے آپ کو پیچھے ہٹالینا جو ہمارے مرکز ، ہمارے نظریے اور ہمارے مقصد سے جڑی نہیں ہے
اپنی یہ قیمتی سانس حضور جانِ کائنات سرکار ﷺ کی وفاداری میں گزاریں دینِ اسلام کو تخت پر لانے کیلئے جئیں ، اپنی نسلوں تک کیلئے کام وہ کر چلیں جو تاقیامت آپ کا سرمایہ ہو
" انسان زندہ نہیں رہتا کردار زندہ رہتا ہے "
اپنے کردار کو اسلام کے تابع لائیں نہ کہ اپنی نفسانی خواہشات کا غلام بن کر انجانے میں اسلام سے آگے بڑھیں ، مسلمان کی حیات اسلام سے ہے اس کے سوا اس کا کوئی وجود نہیں کوئی کردار نہیں
آج جن ہستیوں کے نام ہم ادب سے لیتے ہیں اور ان کو اپنا رہنما مانتے ہیں یہ وہی ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ جانِ کائنات ﷺ کی وفاداری میں نچھاور کیا اپنے روز و شپ حضور ﷺ کی رضا میں گزارے۔ جنگ و جدل ہو یا خوشی غمی ہر معاملہ میں اسلام کی تابعداری کی اس لئے آج ان کے نام ان کے کردار کی وجہ سے زندہ ہیں
یہی ہمارا کل سرمایہ ہے یہی ہماری تاریخ ہے یہی ہمارا مقصد ہے پہچان ہے عظمت و شان ہے
علامہ اقبال علیہ رحمہ فرما گئے
بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی است
اپنے آپ کو حضور ﷺ کے قدموں تک پہنچانا ہی مسلمان کی معراج ہے یہی مسلمان کی حاصلِ ہستی ہے
اگر ایسا نہیں کر سکے ، عشقِ مصطفٰی سے ہٹ کر فکر و عمل کی کوئی دنیا بسائی تو چاہے وہ دنیاوی اعتبار سے ظاہراً کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہو ابو لہب کی دنیا ہو گی
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدﷺ سے اجالا کردے
یہی ہے وہ نام مبارک جس سےکائنات کی ہر شے کو حیات ہے۔ حبیبِ خُدا ﷺ کے نام مبارک کی بدولت کائنات کی ہر شے قائم ہے ۔ اور کائنات کی حیات اسی نام والے آقا ﷺ کی خیرات ہے
اگر حیاتِ ابدی چاہتے ہو تو اس نام کی روشنی سے اپنی حقیقت کو پہچانو ! اور اس نام کی معرفت و عشق سے اپنی ہستی کی ویران دنیا میں شمع عشق روشن کرو اپنی ہستی کے مقصد کو پا جاؤ
