Atrocities on the Muslims ofChina and the Silence of Muslim Rulers | TLP

"چین میں مسلمانوں پر ظلم اور اُمت مسلمہ کی خاموشی"۔۔۔!
گزشتہ کچھ سال سے چین (China) میں مسلمانوں پر ایسے درد ناک مظالم ڈھائے جارہے ہیں جسے صرف سُن کر ہی دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور پھر مسلمانوں کی خاموشی اُس سے بھی زیادہ درد ناک ہے

چین (China) کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کی نسل کشی بھر پور انداز میں جاری ہے۔ 

چین (China) نے (Re-Education Camps) کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کو قید کرلیا ہے۔ جن میں سے زیادہ مسلمانوں کا تعلق چین (China) کے صوبہ (Xinjiang) سے ہے۔ یہ ایک مسلم اکثریت صوبہ ہے اور یہاں کہ مسلمان (Uyghurs) کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ انکی ایک اپنی زبان ہے اپنے رسم و رواج ہیں۔

پوری دنیا میں کپاس (Cotton) پیدا کرنے میں (Xinjiang) پانچویں نمبر پر ہے اور یہ بات بھی عام ہے کہ جن مسلمانوں کو قید کیا گیا ہے اُن سے ان کھیتوں پر زبردستی کام کروایا جاتا ہے۔

چین (China) میں مسلمانوں کی مساجد بھی بند کر دی گئیں ہیں اور نہ آذان کی اجازت ہے نہ ہی مسجد میں نماز اور دیگر عبادات کی اجازت ہے اور اسلام کی تبلیغ پر بھی مکمل پابندی عائد ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بات یہاں تک نہیں رہتی کیونکہ مسلمانوں کو حضورﷺ کی ایک بہت خوبصورت سُنت داڑھی (Beard) رکھنے کی بھی اجازت نہیں نیز مسلمانوں کی زندگی گزارنے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے۔

چین (China) میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو (Camps) میں الگ الگ رکھا گیا ہے اور چین (China) نے اس بات کی نفی کی لیکن جب (Satellite) سے تصاویر لی گئیں تو حقیقت سب کے سامنے آگئی کہ کس طرح مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔

حقیقت سامنے آنے کے بعد چین (China) نے ان کیمپس کو ( Re-Education Camps) کا نام دیا لیکن وہاں مسلمانوں پر شدید قسم کا تشدد کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسلام کو چھوڑ دو تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔
چین (China) میں عورتوں کے ساتھ بھی بہت ظلم کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ چین (China) کے صدر (President) نے یہ بات بھی کہی کہ "ہم نے مسلمان عورتوں کو ایسی گولیاں (Medicines) دی ہیں کہ اب وہ بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں رہینگی"!

اب اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کس حد تک مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

جبکہ بچوں کو ایک اسکول (Boarding Schools) میں رکھا گیا ہے جہاں اُنہیں اسلام کے مخالف تعلیمات دی جاتی ہیں اور (Buddhism) پڑھایا جاتا ہے۔
چین (China) میں مسلمانوں کی مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے۔جبکہ علمائے کرام اور مساجد کے آئمہ پر بھی کریک ڈاؤن (Crackdown) کیا گیا ہے اور اُن پر بھی شدید ظلم کیا جا رہا ہے.

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان ملک اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتے بلکہ اب تو آواز اُٹھانے کا بھی وقت گیا اب تو باقاعدہ جہاد کا اعلان ہونا چاہیئے! 
لیکن افسوس کہ ہمارے ملک پاکستان پر اس وقت یہودیوں کے غلام مسلط ہیں جن کے نزدیک دُنیا کی مال و دولت اسلام سے بھی زیادہ اہم ہے اور مسلسل پاک چین دوستی (Pak-China Friendship) کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کے کسی نیوز چینل (News Channel) پر اس بارے میں ایک خبر نظر نہیں آئے گی کیونکہ یہاں اسلام کا نظام ہی نافذ نہیں ہے سب کچھ حکومت کے ہاتھ میں ہے جو چاہتی ہے خبر چلا دیتی ہے اور حقیقت سامنے نہیں آنے دی جاتی۔

جبکہ "حضورﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں اگر جسم کے کسی ایک حصہ کو درد ہوتا ہے تو پورا جسم اسکی تکلیف محسوس کرتا ہے"

آج ہمیں کیا ہوگیا ہے؟ ہم کیوں خاموش ہیں؟ 

ہم آواز کیوں نہیں اُٹھا رہے ہیں؟ 

کہاں گیا وہ جہاد کا جذبہ؟ 

کہاں گیا وہ شوق شہادت؟ 

اُٹھو آج بیدار ہوجاؤ ورنہ تمہارے سامنے کشمیر فلسطین برما شام عراق کا حال موجود ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئے آواز بُلند کرو!

Post a Comment

Previous Post Next Post