Why liberals are getting afraid by from TLP Famousness?

 تحریک لبیک پاکستان کا ہر آگے بڑھتا ہوا کامیاب قدم جو اپنوں اور غیروں دونوں کو ھضم نہیں ہورہا


تحریک لبیک پاکستان کی کامیابی دیکھ کر ہر مخالف پریشان ہے چاہیے وہ اپنا ہی کوئی نام نہاد سنی پیر مولوی ہو جو پوری زندگی حضور ﷺ کے نام کی روٹی تو کھاتا رہا مگر حضور ﷺ سے بے وفائی کرنے میں سب سے آگے ہے امن کا درس دیتے ہوئے 


 ایک غیر لبرل طبقہ جو پوری زندگی حضور ﷺ کے دین سے بیزار رہتا ہے مگر یہود نصاریٰ کی غلامی شوق سے کرتا ہے 



تحریک لبیک پاکستان نے ہر معاذ پر جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا اور کفر اور کفر کے دلالوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتایا 


 ہم مر جائیں گے مگر ظالم کی حمایت نا کریں گے 


ناموس رسالت ﷺ کا معملہ ہو گستاخی کا معملہ ہو یا کوئی بھی مذہبی معملہ ہو یا ملک پاکستان کی سالميت کا معملہ ہو یا مظلوم عوام کا معملہ ہو  



 تحریک لبیک پاکستان ہمیشہ صف اول میں نظر آتی ہے



جب کسی مذہبی و ناموس رسالت ﷺ کے معملہ پر کسی اور فرقہ کا کوئی لیڈر یا ذمہ دار تحریک لبیک پاکستان کے قائدین سے ملاقات کرنے آجاۓ یا کبھی اتفاق سے کسی نجی محفل میں ملاقات ہو جاۓ 


یا گستاخانہ پیج اور مواد کا معملہ ہو سوشل میڈیا پر تو تحریک لبیک پاکستان کے *سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب* سپریم کورٹ پہنچ جاۓ اور وہاں وکلاء کے ساتھ پریس کانفرنس کرے اور حکومت اپنا اسلام مخالف فیصلہ فوری واپس لے لیں 


 یہ فتح اسلام کی ہے




اور وہاں دوسرے فرقہ کے ذمہ داران بھی موجود ہو تو اس پر نام نہاد سنی پنڈٹ جو خود یہود نصاریٰ کے دلال سابقہ ؤ موجودہ حکمرانوں سے ملتے ہو اور انکو عاشق رسول ﷺ کا لقب بھی دیتے ہو اور انکی تعریف کے پھول بانٹ رہے ہو تو انکے لیے سب جائز و حلال ہو جاتا ہے 


جب تحریک لبیک پاکستان کے ذمہ داران کے ساتھ کوئی آکر کھڑا ہو جاۓ اظہار يكجتی کے لیے تو سب کی نیندیں حرام ہو جاتی ہے اور فوری مارکیٹ کے اندر کلو کے حساب سے فتویٰ جاری کئے جاتے ہیں 


 ناموس رسالت ﷺ کا مسلہ ہر کلمہ پڑھنے والے کا مسلہ ہے کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں


جب بات ناموس رسالت ﷺ کی آجاۓ تو اس میں مسلکی اختلافات سے ہٹ کر ایک ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے 


اگر ہم کہے ہم ہی آواز اٹھاۓ اور کوئی ہمارے ساتھ آواز نا اٹھاۓ تو یہ بات اپنی ذات کے لیے شمار ہو جاۓ گی تحریک لبیک پاکستان اپنی ذات کے لیے نہیں ہے بلکہ اسلام کے تحفظ کے لیے ہیں 


اگر کوئی اور مسلک کے احباب بھی ناموس رسالت ﷺ کے مسلہ پر متفق ہو کر تحریک لبیک پاکستان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی 



 تحریک لبیک پاکستان نے ہی ناموس رسالت ﷺ تحفظ کے لیے ہر مسلمان کو بیدار کیا



جس سے نام نہاد سنی پیروں اور مولویوں کو اتنی تکلیف ہوتی ہے تو وہ خود کہا سو رہے ہوتے ہیں جب کوئی گستاخی کا معملہ ہوتا ہے یا ناموس رسالت ﷺ کا معملہ ہوتا ہے تب تو خود اپنے آستانے مسجد مدرسہ سے باہر ہی نہیں نکلتے کئی انکی پیدا گیری بند نا ہو جاۓ کئی گرفتاری نا ہو جاۓ 


اور اعترض کرنے آجاتے ہیں تحریک لبیک پاکستان پر جو خود کر نہیں سکتے تو نہیں کرو مگر کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں لازمی دیکھ لیا کرو 


تم نے پوری زندگی حضور ﷺ کے نام پر مال و دولت بنائی مرید بناۓ گھر بناۓ مگر جب بات حضور ﷺ کی عزت ناموس پر پہرہ دینے کی آتی ہے تو تم سب دم دبا کر بھاگ جاتے ہو 


 خدارا اب فیصلہ عوام خود کرے اور اپنی بند آنکھیں کھولے اور حقیقت کو سمجھے


دو نمبر دین فروش پیروں مولویوں سے اپنی جان چھوڑواۓ


 دین کی اصل پہرے دار تحریک لبیک پاکستان کا ساتھ دو اور پاکستان میں نظام مصطفیٰ ﷺ نافذ کرنے کے لیے کرین پر مہر لگاۓ


تحریک لبیک پاکستان قومی اسمبلی میں پہنچے گی تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کوئی اسلام مخالف فیصلہ کر سکے 


آخر میں دعا ہے اللّه پاک ہمیں حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرماۓ آمین 


 از قلم ؛ محمد شاکر رضا اختری

1 Comments

  1. ما شاء اللہ ۔۔بہت اعلٰی ،،ایک بات اور بھی شامل فرما لیتے کہ علامہ شاہ احمد نورانی نے جب قادیانی کو کافر قرار دلوایا تو اس میں بھی سارے فرقے متفق ہوئے تب یہ قانون پاس ہو سکا،دوم اسی بنا پر مسلمان کی تعریف آئین یہ لکھی گئ کہ جو ختمِ نبوتﷺ پر ایمان رکھے ۔سب اس آئین کا کریڈٹ تو لیتے ہیں لیکن سعد رضوی کے ساتھ اسی بنا پر غیر مسلک والے کھڑے ہوتے ہیں تو سعد رضوی سے الرجی ہونے والوں سے یہ برداشت نہیں ہوتا اور وہ غلط رنگ دیکر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں وہ یقیناً ایسا نہیں کر سکتے ۔لیکن عقل کے بغیر تو موجاں ہی ہیں

    ReplyDelete
Previous Post Next Post