تہذیب نوی اسلام پر حملہ آور ہو چکی ہے۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے فلسفے کے مطابق تمام تر سیاسی جماعتیں خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا دوسرے ممالک کی ہوں ان میں جو جو یہود و ہنود کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں ان کی تاویل حرف ینسلون کے ساتھ کی۔ اقبال نے ان کو جوج و ماجوج کے ساتھ تشبیہ دی۔ جس پر آج تک کوئی صاحب علم اور صاحب ایمان اعتراض نہ کر سکا۔
ہم علی الاعلان اس بات کو پھیلاتے ہیں کے آج جو بھی سیاسی جماعتیں دین کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں یا بننے کی کوشش کر رہی ہیں وہ سب جوج ماجوج ہیں۔ اقبال فرماتے ہیں
محنت و سرمایا دنیا میں صف آرا ہو گئے
دیکھئے کس کس کی تمناؤں کا ہوتا ہے خون
حکمت و تدبیر سے یہ فتنہ آشوب خیز
ٹل نہیں سکتا وقد کنتم بہ تستعجلون
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ینسلون
ہمارا کسی کو تکلیف یا دل آزاری کرنے کا قطعاً مقصد نہیں ہوتا۔ لیکن معاملہ کچھ یوں ہےکہ اگر ہر کوئی اپنی مرضی سے دین بیان کرنا شروع کر دے اور کبھی لبرل کو،کبھی قادیانی کو بھائی بنا لے،کبھی قادیانی کو ایک فرقہ کہنے کی کوشش کرے تو بحیثیت مسلمان ہم کو بھی تکلیف پنہچتی ہے۔ دوسری بات یہ کے بزرگ فرماتے ہیں علاج سے احتیاط بہتر ہے۔ جس نے شک سے خود کو بچا لیا اس نے اپنا ایمان بچا لیا۔
اللہ خود کبھی دنیا میں آ کر حق نہیں بیان کرتا۔ اللہ اسباب پیدا کرتا ہے۔ انہی اسباب میں اللہ پاک نے علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ جیسے ذہین اور مرد قلندر پیدا فرمایا۔
فتنہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک سیاسی طرز کا, دوسرا معاشی طرز کا۔ اگر اقبال نہ ہوتے تو اس دور جدید میں ہم فتنوں میں پس چکے ہوتے۔ یہ انہی کی بصیرت و بصارت تھی کہ انہوں نے امت کو ایک راستہ دکھایا۔ آج اقبال کو بھی برا بھلا کہا جا رہا ہے۔
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سوچ کے اندھے, بصیرت و بصارت کے اندھے بن چکے ہیں۔ ہم ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں پر دل کی آنکھ نہیں کھولنا چاہتے, کانوں سے سنتے ہیں پر روح میں نہیں اترنے دیتے۔ ہم مصداق صم بکم ہوتے جارہے ہیں۔
اسلام میں شرک کے بعد سب سے بد ترین گناہ سود ہے۔ پچھلے ستر سال سے ہم سود کھا رہے ہیں اللہ سے جنگ کر رہے ہیں لیکن ہماری غیرت نہیں جاگ رہی۔ ہم کس منہ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سامنا کریں گے۔ اور ووٹر جو ووٹ دیتے ہیں وہ کیا حجت لے کر اللہ کے حضور پیش ہونگے۔ کیا اللہ نے قرآن میں فرما نہیں دیا کہ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے۔
لیکن الحمدللہ ہماری تحریک اس فعل کی بھرپور مذمت کر رہی ہے۔ لیکن دکھ یہ ہے کہ ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اس کی مخالفت بھی نہیں کر رہا, الٹا شرعی و قومی عدالتی فیصلہ آنے کے بعد اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں چلا جاتا ہے۔ حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے عالمی بنک سے سود پر قرضے لیتے ہیں۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو جوج ماجوج کے ساتھ تشبیہ بھی دی اور یہ بھی فرمایا کہ ایسے لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔
آج یہ جو سارا ماحول قائم کیا جا رہا ہے یہ اسی جوج ماجوج کی جانب ہی کیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب تحریک لبیک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نعرہ لے کر اٹھی ہے تو ان شیطانی طاقتوں کو یہ اب ناگوار گذر رہا ہے۔ یہ مختلف حیلوں بہانوں سے تحریک کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اپنی اقتدار کی طاقت کے بے دریغ استعمال سے تحریک لبیک کو پیچھے دھکلنے کی کوشش میں ہیں
ان کا یہ سارے طرز عمل اور دجالی میڈیا کی ساز باز سے یہ تحریکی کارکنان کو بھی ذہنی طور پر باغی کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ سب دجالی فتنہ پرور لوگ تحریک کے قائدین اور کارکنان کے درمیان ایک تناؤ پیدا کرنے کے لیے مختلف صحافیوں کے ذریعے اخلاق, مرکز کی طرف سے تربیت اور انتظامی امور جیسے سوالات کو کارکنان کے ذہنوں میں نقش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن اس مشکل وقت میں جب یہ جوج ماجوج کے لشکر ہمارے اذہان اور مقاصد کے خلاف اپنے مکروہ جال بن رہے ہیں ہمیں اپنی تمام تر قوتوں کو بروئے کار لا کر مرکز سے مضبوط تعلق, ذہن و قلوب کو مرکز کے تابع اور جذبات کو ٹھنڈا رکھنا ہے
ہم کو اللہ پاک کی جانب سے ہر امتحان, ہر آزمائش اور ہر مشکل میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وفاداروں کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اللہ ہماری ثابت قدمی, جوانمردی اور ہمارے قلوب کو اپنی طرف مائل بہ مضبوط پا کر ہم کو فاتح اور غالب فرمائے گا۔
بے شک جب حق آتا ہے تو باطل ختم ہو جاتا ہے۔ اور باطل مٹ کر ہی رہے گا۔
Tags
Urdu Blogs