Why Should You Support TLP? || TLP

آپکو تحریک لبیک پاکستان کا ساتھ کیوں دینا چاہئیے؟

اسلام بطور مذہب تو قبول ہے لیکن بطور دین نہیں
یہودیوں نے مسلمانوں کی تقسیم چار طبقوں میں کی ہے
 مگر یہ بریلوی ، دیوبندی ، اہل حدیث شیعہ وغیرہ نہیں
 
بلکہ فرقوں سے بالا تر ہو کر ایک مخصوص طریقے سے ان 4 طبقوں کی تقسیم کی گٸی ہے 

نمبر1

سیکولر طبقہ:
- جو کہ صرف نام کا مسلمان ہے مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گیا باقی اسلام سے کوٸی سروکار نہیں نمازیں روزے دل کرے تو رکھ لٸے ورنہ نہیں
 بالکل آزاد طبقہ ان کے نزدیک دین کا ریاست سے کوٸی تعلق نہیں ہوتا 

یہود کا انکے متعلق رویہ یہ ہے کہ انکو اپنے ساتھ براہ راست شامل کیا جاٸے 
اور انسانی حقوق کے نام پر اسلامی تعلیمات کی اِن ڈاٸریکٹلی مخالفت کراوٸی جاٸے اور انکو اقتدار بھی دلوایا جاٸے تاکہ وہ ہمارے ایجنڈے پر عمل کروا سکیں

نمبر2
دوسرا طبقہ پیری ملاؤں والا ہے جو امن کے نام پر درباروں پر ڈھول بجانے کا درس دیتے ہیں اور اس پر ناچنے کو ثواب قرار دیکر اعمال کو بس اسی پر ختم کردیتے ہیں 

یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے اذہان میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ بس ہم نے پیر کی بیعت کرلی ہے اب ہمارا بیڑا پار ہماری جنت پکی چاہے اعمال جیسے بھی ہوں ہم تو حضور صلی اللہ علیہ والہ واسلم کی امت سے ہیں اور اِس پیر کے مرید ہیں 

اس طبقے کے بارے میں یہود کا رویہ یہ ہے کہ انکو انکے مسالک میں غالب کیا جاٸے اپنے اپنے مکتبہ فکر کی اتھارٹی انکے ہاتھ میں دی جاٸے اور انڈاٸریکٹلی سپانسر بھی کیا جاٸے تاکہ یہ اپنا اثررسوخ مذہبی حلقوں میں قاٸم رکھ سکیں انکا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو سکتا ہے یہ وہ طبقہ ہے جو دین کی تاویل اپنی مرضی سے کرتا ہے اور اپنے اسلاف کی رسومات کو چھوڑ کر خود ساختہ رسم و رواج کو دین کا حصہ بناتا ہے

نمبر3
تیسرا طبقہ رواٸتی یا Traditional مولوی ہیں 
جو کہ چند عبادات نماز ، روزہ حج زکوۃ میں زیادہ کٹر ہیں مگر اس سے آگے نہیں بڑھتے 

انکے متعلق یہود کا رویہ یہ ہے کہ انکو نہ چھیڑا جاٸے نہ ہی انکو سپورٹ کیا جاٸے بس جوں کا توں چھوڑ دیا جاٸے یہ طبقہ مسجد و مدرسہ میں قال اللہ و قال رسول کی صداٸیں بلند کٸے ہوٸے ہیں یعنی یہ طبقہ اسلام کو عقاٸد عبادات و رسومات تک محدود سمجھتا ہے 

نمبر 4
چوتھا طبقہ اہم ہے اور یہی طبقہ یہودیوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے 
یہ بنیاد پرست یا Fundamentalist کہلاتے ہیں یہ طبقہ اسلام کو مکمل ضابطہ حیات سمجھتا ہے 

اور یہ ہے انقلابی طبقہ جو اس نظام کو بدلنے کی بات کرتا ہے 
انکا تعلق کسی بھی مسلک سے نہیں یہ بریلویوں میں سے بھی ہوسکتے ہیں دیوبند یا اہل حدیث سے بھی ہو سکتے ہیں 

 انکے متعلق یہود کا رویہ بس ایک ہی ہے کہ انکو خود بھی مارو اور پہلے طبقہ سے بھی مرواؤ
 دوسرے طبقے سے انکے خلاف فتوے جاری کرواؤ

 اور تیسرے طبقے کی خاموشی کا فاٸدہ اٹھا کر اِنکو ذلیل کرواؤ

 مسلمانوں کے تینوں طبقوں سے انکی دشمنی کروائی جاٸے
 کبھی دہشت گرد تو کبھی فسادی کہلوایا جاٸے 
اور اس طرح بالآخر عوام کے دلوں میں انکے لیٸے نفرت پیدا کرواٸی جاٸے اور دشمن اپنے اس مقصد میں کامیاب ہیں

 کیونکہ آج ایک خونی لبرل آدمی کے نزدیک جہاد بالسیف ایک دہشت گردی ہے اور یہود کے نزدیک ٹارگٹ نمبر1 یہی بنیاد پرست ہیں اور وہ ہر حالت میں انکو ختم کرنا چاہتے ہیں انکا دوسرا ٹارگٹ روایت پسند طبقے کو ان سے دور رکھنا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ
Traditional طبقے کے پاس عوام میں بہتر رساٸی موجود ہے جمعہ و عیدین میں یہ لوگ آسانی سے بات کر سکتے ہیں انکو تبلیغ کرسکتے ہیں دعوت جہاد دے سکتے ہیں اور مدارس میں بھی انکی ایک کثیر تعداد ہوتی ہے جوکہ رواٸتی طبقے کے زیر اثر ہوتی ہے اگر رواٸتی اور بنیاد پرست ایک دوسرے کے ساتھ مل گٸے تو اسکے نتیجے میں ایک بہت بڑی طاقت بنیاد پرستوں کے ہاتھ لگ جاٸے گی کیونکہ بنیاد پرستوں کی براہ راست رساٸی عوام تک بہت کم ہے 
ایک رپورٹ کے الفاظ جو بنیاد پرست یا Fundamentalist کے بارے میں کچھ یوں ہے

"They are our enemy number one we have to crush them in whatever is way possible" 

اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ
 اہل یہود کو اسلام بطور مذہب تو پسند ہے مگر بطور دین پسند نہیں
دوسرے الفاظ میں انہیں ہماری عبادات سے کوٸی سروکار نہیں انکو اصل مسٸلہ ہمارے نظام سے ہے

 اور اگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جاٸے تو اکثر جنگیں نظاموں کے مابین ہوٸی ہیں ماضی قریب میں افغاستان میں کیمونیزم کا قبرستان بنا اور اسکے بعد کیپیٹالیزم کا قبرستان بھی وہیں بن رہا ہے جہاں کیمونیزم دفن ہے یہ رپورٹ Rand Corporation نے مارچ 2004 میں پبلش کی تھی
جسکے مطابق بیان کٸے گٸے مسلمانوں کی 4 طبقات میں تقسیم کی گٸی تھی

 بحیثیت مسلمان ہمیں سوچنا چاہیٸے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں

کہتے ہیں کہ
  اس زمانے میں اگر حق کو پہچاننا ہو تو یہ دیکھیں کہ باطل کے تیروں کا رخ کس جانب ہے 
لہذا حق کو پہچانئے

 فرقہ واریت سے نکلیں اور بحیثیت امت سوچیں

جہاں یہودی ایک خدا کو ماننے والے اور ہندو ہزاروں خدا بنانے والے صرف اسلام دشمنی میں ایک جگہ ایک مقصد ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوسکتے ہیں تو کیا ہم اسلام کی محبت میں ایک نہیں ہوسکتے

 ہمارے پاس تو کلمہ بھی ایک ہے
 کتاب بھی ایک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ واسلم بھی ایک ہیں 

بقول شاعر مشرق 

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی، اللہ بھی ، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں

آٸیے خود بھی بیدار ہوں اور دوسروں کو بھی بیدار کریں

آئیے اپنے حصے کا دیا جلائیں!!!!

حضور ﷺ کے دین کے نفاذ کے لیے تحریک لبیک یا رسول اللّه ﷺ پاکستان کے دست و بازو بنیں
پاکستان میں نظام مصطفیٰ ﷺ نافذ ہوگا تو پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند ہوگا

تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد 

1 Comments

Previous Post Next Post