بانیِ تحریک لبیک یا رسول اللّٰہﷺ (پاکستان) امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی نور اللّٰہ مرقد کا دنیا نیوز پر دلچسپ انٹرویو
سوال نمبر ١: علامہ صاحب خبر نامے میں سنا ہے کہ مزاکرات میں لچک ہو گٸی ہے؟
جواب:کون سی لچک؟
سوال نمبر ٢:جب ہم یہاں پہنچے تو سنا کہ کوٸی لچک نہیں ہے،تو آپ بتاٸیں کیا ہو رہا ہے
جواب:کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ آپ دیکھ رہے ہیں ہم بیٹھے ہوۓ ہیں۔ ہمارے کارکن نیچے زمین پر سوۓ ہوۓ ہیں۔یہ منظر دیکھنے کے بعد تو آدمی کے سوال ویسے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
سول نمبر٣: علامہ صاحب پلان کیا ہے؟
جواب:پلان کچھ بھی نہیں ہے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ناموس کے لیے بیٹھے ہیں۔ ختمِ نبوت کے لیے نکلے ہیں۔
سوال نمبر٤:رپورٹ ہو رہا کہ آپ نے جو لچک دکھاٸی ہے وہ زاہد حامد صاحب کے استعفے پر ہے، آپ نے کہا کہ ایک کمیٹی بنا لیں اور وہ کمیٹی ایک دو مہینے تک رپورٹ دے
جواب:یہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ کا تو کوٸی علاج نہیں۔
سوال نمبر ٥: تو یہ بالکل آپ کی ڈیمانڈ نہیں ہے؟ سب سے بڑی ڈیمانڈ کیا ہے آپ کی؟
جواب:اگر یہ مجرم ہے تو اس کو ہٹاٸیں۔اگر یہ نہیں تو اس کے پیچھے جو مجرمین ہیں وہ کون کون ہیں اسکا پتہ لگائیں۔
سوال نمبر٦: میں آپ کا ہم شہری بھی ہوں۔میں ادھر اب نہیں رہتا مگر میری بچی کا ادھر سکول تھا۔ اب روز اس علاقے سے رپورٹیں آتی ہیں کہ فلاں بچی سکول نہیں گٸی۔
جواب:شکر ہے اللّٰہ کا۔ بہتر ہو گیا۔کوئی بات نہیں۔
سوال نمبر ٧: کیوں؟
جواب:اس لیے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی عزت کا مسٸلہ کاٸنات کا سب سے حساس مسٸلہ ہے۔ ایک سال تو ویسے ہی بندہ فیل ہو جاتا ہے۔ بچی ہماری ایک سال بعد پڑھ لے گی۔
سوال نمبر٨: ہم آپ کا موقف بھی دے رہے ہیں اور دوسری ساٸیڈ کا موقف بھی دے رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا ملک (پاکستان)ایک ہو جاۓ۔
جواب:کیا ہم نے ملک کو جدا کیا ہے؟کیا ہم نے علیحدہ کلمہ پڑھا ہے اور آپ نے علیحدہ؟ ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں لیکن جب بھی ملک ایک ہو گا حضورﷺ کے نام پر ہی ہو گا۔
اقبال کہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ اوپر جانا چاہتی ہے، عروج پانا چاہتی ہے، متحد ہونا چاہتی ہے اور عزت چاہتی ہے تو حضورﷺکے عشق سے ہی ممکن ہے۔
سوال نمبر٩: الیکشن کے حوالے سے کیا پلان ہے؟ کہاں کہاں سے لڑیں گے الیکشن؟
جواب:ملک میں ہر جگہ سے لڑیں گے۔ پھر الیکشن کے بعد لوگوں کو کہیں گے کہ بتاٶ اپنے قرضے اور یہ بتاٶ کہ الیکشن سے پہلے کتنا مال تھا اور اب کتنا ہے۔ قرض ہم ان کا اتاریں گے لیکن چندے سے،قومی خزانے سے نہیں۔ہم نے ان کو کر کے دکھایا کہ جھوٹ بولے بغیر اور لوٹ مار کے بغیر بھی سیاست ہو سکتی ہے۔ آج کے اس دور میں بھی ہم نے یہ مثال قاٸم کر دی ہے۔



