ملک تباہ حال اور اداکاروں اور حکمرانوں کی مکاریاں || TLP

 کینیڈا ایوارڈ شو اور حکمرانوں کی مکاریاں


حال ہی میں ایک پاکستانی چینل ہم نیوز کی جانب سے کینیڈا میں ایک ایوارڈ شو منعقد کیا گیا جس میں لاکھوں نہیں اربوں روپے اڑائے گئے پاکستان سے اداکاروں کو مدعو کیا گیا تھا،

اداکار بھی گئے ایوارڈ شو بھی منعقد ہوا بے حیائی اور بے شرمی کے میلے منعقد ہوئے لیکن اس میں پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے ایک جملہ تک نہیں کہا گیا،



کیا وہ لوگ جن کے سیلاب کی وجہ سے گھر اجڑ گئے ہیں جن کے پینے کیلئے صاف پانی تک نہیں ہے جنہیں مختلف پھیلتی ہوئی بیماریوں کے علاج کی ضروت ہے روٹی کپڑے کی ضرورت ہے وہ سب پاکستانی شہری نہیں ہیں؟؟؟

یا ان سب اداکاروں کا تعلق کسی اور ملک سے ہے!

ملک کا اکثر علاقہ سیلاب میں ڈوب گیا پورے گاؤں کے گاؤں تباہی حال ہو گئے کیا ان تمام اداکاروں اور مکاروں سے کوئی سیلاب متاثرین کی فریاد سننے گیا ہے؟

نہیں کیونکہ یہ لوگ کو فلموں اور ڈراموں میں اداکاریاں کرتے کرتے حقیقت سے بھی نا آشنا ہو چکے ہیں

قوم تو سمجھتی تھی کہ صرف سیاستدان ہی قوم کے دکھ درد سے بیزار ہیں لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے!


جھوٹے سیاستدان کیمروں کے سامنے بیٹھ کر عوام سے جھوٹی ہمدردیاں جتلاتے رہے

کسی نے پانچ پانچ سو کروڑ اکھٹے کرنے کیلئے ٹیلی فون کیے اور کسی نے انکا بھی ریکارڈ توڑنے کیلئے سوا کھرب اکھٹے کر لیے!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دس ارب اور سوا کھرب عوام پر کہاں لگائے گئے ہیں؟

کیا کہیں مکانات تعمیر ہوئے ہیں یا متاثرین میں راشن تقسیم کیا ہو؟ کچھ بھی نہیں کیا گیا کیونکہ وہ سب اقدامات قوم کے نام پر اپنی ناجائز فنڈنگ کو حلال دکھانے کیلئے کیلئے اٹھائے گئے تھے یہی حال اداکاروں کا بھی ہے جن کے پاس کینیڈا اور دیگر ملکوں میں جانے کیلئے اربوں روپے تو ہیں لیکن اپنے سیلاب متاثرین بھائیوں کیلئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے!


اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوتے اگر کسی کو دیکھا گیا ہے تو وہی مولوی پگڑی اور داڑھی والے کو دیکھا گیا ہے جن کے پاس وسائل ہوں یا نہ ہوں یہ لوگ اللہ کی ذات پر توکل کر کے نکل پڑتے ہیں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کیلئے چاہے انہیں چندہ اکھٹا کرنا پڑ جائے یا اپنی قلیل تنخواہیں خرچ کرنی پڑیں یہ لوگ آپ کو پیچھے ہٹتے نظر نہیں آئیں گے!

یہ وہی مولوی ہیں جنہیں یہ سیاستدان اور اداکار صبح سے رات تک ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کبھی دہشتگرد کہہ رہے ہوتے ہیں کبھی انتہا پسندی کے ٹیگ لگا رہے ہوتے ہیں 


قوم پر مشکل وقت میں وہ انسانی حقوق کے علمبردار اور حقوق نسواں کے جھوٹے علمبردار بھی بلوں میں چھپ جاتے ہیں 


جب پیدائش کی کان میں آذان سے لے کر وفات پر مغفرت کی دعا تک،

نکاح سے جنازہ تک،


ہر جگہ اسی مولوی نے ہی کام آنا ہے اور یہ مولوی آپ کی مغفرت کی دعا کے اہل ہے تو اس ملک کا نظام سنبھالنے کیلئے یہی علماء اہل کیوں نہیں ہیں؟؟؟

یہ تمام لبرل اور ماڈرن ازم کے پیروکاوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟


تمام مذہبی جماعتیں اپنے مذہبی اختلافات کو بھلا کر مسالک کی قید سے آزاد ہو کر اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کرتے نظر آتی ہیں

تحریک لبیک پاکستان نے اربوں روپوں سے اپنے سیلاب زدگان بھائیوں کی امداد کی لیکن سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مذہبی طبقات کے بغض میں ایک بھی خبر نہیں چلی،

کیونکہ وہ سب جانتے ہیں اگر قوم واقعی جان گئی کہ ہمارے اصل محافظ یہی مذہبی جماعتیں ہیں تو لبرل اور سیکولر سیاستدانوں اور اداکاروں کی اس ملک میں جگہ باقی نہیں رہے گی اسی لیے تو تمام مکاروں کو مذہبی ٹچ دینا پڑتا ہے اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کی دین سے بیزاری قوم پر عیاں ہوتی ہے!


لیکن اب وہ وقت دور نہیں جب قوم کے سامنے حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہونے والی ہے اور تحریک لبیک پاکستان کا مشن گھر گھر پہنچنے والا ہے

Post a Comment

Previous Post Next Post