ایک صاحب نے اپنی کتاب میں یہ واقعہ نقل کیا کہ داتا صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ، بڑا تلاش کیا کہ بات کیا ہے ، اصل کیا ہے ، راز کیا ہے ، یہ کیا ہے ، وہ کیا ہے ۔ تو مکاشفہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ہم ایک مزار پہ چلے گئے کیونکہ وہ راز نہیں کھُلتا تھا ۔ ۔ ۔ !
یہ واقعہ "کشف المحجوب" میں ہے ۔ میں ایک طرف بیٹھا تھا ! وہاں کچھ درویش نما لوگ بیٹھے تھے جو خربوزے کھا رہے تھے۔ ۔ ۔ !
وہ خربوزے کھاتے اور چھِلکے مجھ پر پھینکتے گئے ، میں چُپ کر گیا اور بات کو پی گیا ، جب بات کو پی گیا تو مجھے راز
مل گیا ۔ ۔ ۔ !
وہ سوال یہ تھا کہ روشنی کے آستانوں پر تاریکی کیوں ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔؟
تو جواب یہ ملا کہ تیری استقامت کو پختہ کرنے کے لئے ۔ ۔ ۔ !
آج جو لوگ لبیک کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں اپنی دشنام طرازی سے اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتے ہیں وہ اس روشنی کے مینار پہ تاریکی کی مانند ہیں ان غافلوں کو کیا خبر کہ تحریک لبیــــــــــــک اس پرفتن دور میں مینارۂ نور بن کے ابھری اور اس کا نور قیامت تک جگمگاتارہے گا
یہ تحریک آج ایک مرد قلندر قبلہ امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی نوَّر اللہ مرقدہ کی بے لوث قربانیوں اور خلوص و للہیت کی بدولت
غیرت و حمیَّت کا استعارہ بن گئی
صدیوں پہلے کچھ سیاہ دل لوگ ایسے تھے جنہیں حضور داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ
والرضوان کی بھی پہچان نہ ہو سکی اور
وہ آپ کی بے ادبی کے مرتکب ہوئے اور آج انہی سیاہ بخت لوگوں کی نسل کے لوگ ہیں جو اس مینارۂ نور کو پہچاننے سے محروم ہیں اور داتا صاحب کے روحانی بیٹوں اورحقیقی جانشیوں پر زبان درازی کرتے ہیں
طرح طرح کے بے بنیاد الزام لگاتے ہیں لیکن ان کی یہ جھوٹی باتیں اور بے بنیاد الزامات لبیک والوں کو ڈگمگا نہیں سکتے بلکہ ان کے پایۂ استقلال میں مزید پختگی آتی ہے اور وہ مزید جوش و جزبے کے ساتھ دین کی سربلندی کیلئے تحریک لبیک کا کام کرتے ہیں
فرق یہ ہے کہ صدیوں پہلے سیا ہ بخت لوگوں نے خربوزے کھا کے داتا صاحب علیہ الرحمہ پہ چھلکے پھینکے اور آج انہی بیہودہ لوگوں کی پیروی کرتے ہوۓ لوگ خربوزے کھا کر نہیں بلکہ ڈالر کھا کے، یہود و نصاریٰ کے تلوے چاٹ کر داتا صاحب کے مشن پر چلنے والوں اور حضور جان عالم ﷺکی عزت و ناموس کی پہرےداری کرنے والوں پہ الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے یہ دین کے نام پہ اپنی سیاست چمکا رہے ہیں کبھی کہا جاتا ہے فلاں کے ساتھ ان کی ایڈجسٹمنٹ ہوگئی کوئی دہشتگردکے نام سے پکارتا ہے الغرض ایسے ایسے الزامات لگاۓ جاتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور یہ سب ہمیں جھکانے اور کمزور کرنے کیلۓ کرتے ہیں۔ان بے شرموں اور منافقوں کو یہ خبر نہیں کہ ہمارے با با جان ہمارا سودا بازارِ مصطفیٰ میں کر گئے ہیں اور جن کا سودا اس بازار میں ہو جاۓ پھر دنیا کی کوئی طاقت انہیں جھکا نہیں سکتی،کمزور نہیں کر سکتی۔
اور افسوس صد افسوس کہ ان لوگوں میں بہت سے صاحبِ جبہ ودستار بھی ہیں جو بجاۓ اس کے کہ ان لوگوں کا قبلہ درست کرتے اپنی دنیاوی جاہ وحشمت کے لئے،اپنے دامن کو بچاتے ہوۓ ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر تعاون علٰی الشر کے زمرے میں داخل ہو گئے لیکن دوسری جانب لبیک والے پہلے سے کئی گنا زیادہ جوش وجذبے کے ساتھ دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں اپنے آقا و مولا کی عزت و ناموس کی حفاظت کیلئے لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ ﷺکی ایمانی، روحانی اور وجدانی صداؤں کے ساتھ میدان عمل میں ہیں اور روز محشر بھی لبیک والے
پاۓ کوباں پل سے گزر یں گے تیری آواز پر
ربِّ سَلِّم کی صدا پر وجد لاتے جائیں گے
جو لوگ آج چونکہ، چنانچہ سے کام چلا رہے ہیں ان میں سے کوئی نام نہاد مغربی آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف ہے تو کوئی منافق حکمرانوں کی چمچہ گیری میں اورکوئی دین کے نام پہ نذرانے بٹور رہا ہے۔کلمہ پڑھ کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم فارغ ہو گئے،اب جو جس کے جی میں آۓ وہ کرتا پھرے۔ یہاں جو دین کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ سازشوں میں مصروف ہیں وہ وہاں کیسے وجد کرتے ہوۓ گزریں گے
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فرماتے ہیں
آج لے ان کی پناہ،آج مدد مانگ ان سے
کل نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
اور جو یہاں بھی لبیک کہتے ہوئے دین کی سربلندی،ناموس رسالت و ختم نبوت کیلئے دن رات کوشاں ہیں وہ وہاں بھی کہیں گےلبیک یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم۔
از قلم سید سبطین شاہ
