تحریک لبیک پاکستان کے جلوس پر شیلنگ کیوں ہوئی؟ || TLP

 نشانے پر آخر لبیک ہی کیوں؟



حق اور باطل کی معرکہ آرائی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔باطل ہمیشہ حق کو دبانے کے لئے اکٹھا ہو جاتا ہے۔ 12 ربیع الاوّل کے دن عید میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کے موقع پر ہری پور میں ایک جلوس کا انعقاد کیا گیا۔ دشمنانِ دینِ مصطفےٰ نے اس جلوس پر شیلنگ کی اور بزور طاقت جلوس کو روک دیا گیا۔ردِ عمل کے طور پر تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم نے اعلان کیا کہ اگلے  اتوار یعنی 16 اکتوبر کو ہم اسی راستے سے میلاد شریف کا جلوس گزاریں گے جس راستے سے منع کیا گیا تھا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسی راستے پر جلوس لے کر جانے کا اعلان کیوں کیا گیا۔درحقیقت بات یہ ہے کہ جس طرح قربانی تو ہر جانور کی ہو سکتی ہے لیکن دورِ اکبری میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ ضروری قرار دیا کہ اب ہر مسلمان گائے پر ہی قربانی کرے کیونکہ اس ذبیحہ پر بادشاہ نے پابندی لگادی ہے بالکل اسی طرح میلاد شریف کا جلوس کسی خاص راستے سے لے کر جانا کوئی ضروری نہیں لیکن جب یزیدانِ وقت پابندی عائد کر دیں تو پھر اسی راستے پر لیکر جانا واجب ہو جاتا ہے۔

16 اکتوبر بروز اتوار  کو جب تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کا جلوس اپنے مقررہ راستے سے گزر کر واپس جا رہا تھا تو جلوس کے پچھلے حصے پر فائرنگ کاسلسلہ شروع کر دیا گیا۔مسلسل شیلنگ اور فائرنگ کی انتہا کر دی گئی۔شہادتیں ہوئیں،پاکستان کے پرامن ترین شہریوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔جو لوگ زخمی ہوئے انہیں کوئی ہسپتال زیرِ علاج رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا۔



اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان سے اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے۔ہمیشہ تحریک لبیک کو ہی دبانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔پاکستان میں اور بھی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں اور جلسے جلوس حتیٰ کہ ہنگامے بھی کرتی ہیں لیکن کسی جماعت پر یہ تشدد نہیں کیا جاتا۔پی ٹی آئی جس کی خیبر پختونخوا میں حکومت ہے اور جو ہر موقعے پر تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کو نشانہ بناتی ہے،نے خود اسلام آباد تک مارچ کیا اور ریاستی اداروں کو ہر طرح سے دھمکایا لیکن کسی ادارے یا عدالت نے اسے پوچھنا بھی گوارا نہ کیا۔

قارئین کرام!جس طرف باطل کے تیروں کا رخ ہو آپ سمجھ جائیں کہ حق ادھر ہی ہے۔آج تمام باطل طاقتیں مل کر تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کو دبانے کی پوری جد و جہد کر رہی ہیں۔کیا پاکستان کے اور کسی شہر میں کسی جماعت نے میلاد شریف کا جلوس نہیں نکالا؟ہر شہر میں ہر جماعت جلوس نکالتی ہے لیکن درندگی کا سامنا صرف تحریک لبیک کو ہی کرنا پڑا۔

اب آپ یہ جان جائیں کہ باطل قوتیں دوسری جماعتوں کے میلاد شریف یا دوسرے جلوسوں کو روکنے کی کوشش اس لئے نہیں کرتیں کہ وہاں انہیں غیرت کا کوئی مادہ نظر نہیں آتا جو کہ ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس کے امیر سے لے کر کارکنان تک ہر ایک فرد غیور مسلمان ہے اور یہی غیرتِ دینی کفر اور اس کے یاروں کو کھٹکتی ہے۔اس لئے کفر کو مسٔلہ جلوس سے نہیں ہے،کفر کو مسٔلہ میلادِ نبی الملاحم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم سے ہے اور انشاء اللہ یہ میلاد تو تاقیامت منایا جاتا رہے گا چاہے کفر اپنا سارا مال و متاع لے کر ہی کیوں نہ مقابلے میں آ جائے۔

آج باطل یہ میلاد کا جلوس ہری پور کے روڈوں پر روکنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ میلاد تو ایک دن اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں بھی منایا جائے گا۔میلادِ نبی الملاحم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم تو ایک دن سری نگر میں بھی منایا جائے گا اور یہ میلاد انشاء اللہ لال قلعہ دہلی کے اوپر اسلام کا پرچم گاڑ کر بھی منایا جائے گا اس لئے کارکنانِ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم اپنی قیادت پر اعتماد رکھیں۔اپنے آہنی عزم کو بے حوصلگی کی خراشوں سے بچائیں۔شمشیرِ تیقن کو تشکیک کے زنگ سے محفوظ رکھیں۔اپنی صفوں میں اتحاد اور یگانگت کی فضا قائم رکھ کر دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں ہمیشہ کانٹا بن کر چھبتے رہیں۔ انشاء اللہ فتح آخر حق کی ہی ہو گا۔

اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو حق کے ساتھ کھڑا ہونے اور کھڑا رہنے کی توفیق نصیب فرمائے. آمین!

از قلم: عاطف شان

Post a Comment

Previous Post Next Post