تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیه پر صلح کلیت کا الزام لگانے والے دو ٹکے کے مفتیوں کے جھوٹے الزامات کا دلائل کے ساتھ جواب
(اس تحریر کو مکمل پڑھیں تاکہ آپ حقائق سے آگاہ ہو سکیں)
آج کل کچھ دو ٹکے کے مفتی حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیه پر صلح کلیت کا الزام لگاتے ہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے حافظ سعید کے بیٹے سے ملاقات کی اور ڈاکٹر حضرت علامہ شفیق امینی صاحب دامت برکاتہم العالیه نے جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی حالانکہ حقائق بالکل جدا گانہ ہیں
دو ٹکے کے مفتی جو حقائق چھپا کر عوام اہلسنت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ حقائق ملاحظہ ہوں
ایک تقریب میں اتفاقاً حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیه کی حافظ سعید کے بیٹے سے ملاقات ہوئی لیکن حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیه خود چل کر حافظ سعید کے بیٹے کے پاس نہیں گئے بلکہ اتفاقاً ملاقات ہو گئی
دوسری طرف ڈاکٹر حضرت علامہ شفیق امینی صاحب دامت برکاتہم العالیه جب مولانا فضل الرحمن کے پاس گئے تو اپنی ذات کیلئے یا کسی مفاد کیلئے نہیں گئے بلکہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا معاملہ لے کر گئے
اگر ان دو ٹکے کے مفتیوں کو دیکھا جائے تو پھر رویت ہلال کمیٹی میں شامل علماء اہلسنت بھی صلح کلیت کے فتوے کی زد میں آتے ہیں کیونکہ رویت ہلال کمیٹی میں تمام مسالک کے علماء شامل ہوتے ہیں اور پھر مجاھد اہلسنت شاہ امام نورانی صدیقی رحمته الله تعالی علیه بھی ان کے دو ٹکے کے مفتیوں کے فتوے کی زد میں آتے ہیں کیونکہ مجاھد اہلسنت شاہ امام نورانی صدیقی رحمته الله تعالی علیه نظام مصطفیٰ صلی الله تعالی علیه وآله واصحابه وبارک وسلم اور تحفظ ختم نبوت کیلئے تمام مسالک کے علماء کو ساتھ لے کر چلے تھے
ان نابالغ مفتیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی دوسرے مسلک کے علماء سے ملاقات کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ان کے عقائد و نظریات کے ساتھ ہمدردی یا اتفاق ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالم کفر کے خلاف اور پاکستان میں اسلام کے نظام کے نفاذ کیلئے تمام مسالک کی آواز ایک ہے اور تمام مسالک یک آواز ہو کر عالم کفر کے خلاف میدان میں آ چکے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ مجاھد اہلسنت شاہ امام نورانی صدیقی رحمته الله تعالی علیه نے جب نظام مصطفی صلی الله تعالی علیه وآله واصحابه وبارک وسلم کی تحریک چلائی تھی اور تحفظ ختم نبوت صلی الله تعالی علیه وآله واصحابه وبارک وسلم کی قرارداد اسمبلی میں منظور کروا کے قادیانیت کے غلیظ ترین فتنے کو پاکستان کے آئین میں کافر قرار دلوایا تھا تو اس وقت مجاھد اہلسنت شاہ امام نورانی صدیقی رحمته الله تعالی علیه تمام مسالک کے علماء کو ساتھ لے کر چلے تھے
ان دو ٹکے کے مفتیوں نے عوام اہلسنت کو اسلامی نظام سیاست کا شعور دینے کی بجائے فقط نظرانے اور چندے تک محدود کر دیا اور اسلامی نظام سیاست سے دوری کا یہ نتیجہ نکلا کہ حضور صلی الله تعالی علیه وآله واصحابه وبارک وسلم کی شان مبارک میں گستاخیاں ہوتی رہیں (نعوذبالله) ، اہلبیت اطہار رضوان الله تعالی علیہم اجمعین و صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کی شان مبارک کے خلاف گستاخیاں ہوتی رہیں (نعوذبالله) ، قرآن پاک کی بے حرمتی ہوتی رہے (نعوذبالله) ، قرآن و حدیث کو نصاب سے نکال دیا جائے ، قادیانیت کے غلیظ ترین فتنے کو اعلیٰ عہدوں پر بیٹھا دیا جائے ، پاکستان میں سود اور رشوت کا نظام چلتا رہے ، شراب نوشی زنا و بدکاری کھلے عام ہوتی رہے ، حکمران گستاخان رسول کی پشت پناہی کر کے انہیں رہا کرتے رہیں ، حکمران قرآن و سنت کے خلاف فیصلے کرتے رہیں ، غازیان اسلام کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے ، قادیانیت کے غلیظ ترین فتنے کو کھلی چھوٹ دے دی جائے اور وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے کھلے عام اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہیں اور پاکستان میں کھلم کھلا اسلام کا مذاق اڑایا جائے (نعوذبالله) لیکن مولوی ، پیر اور گدی نشین حضرات اسلام کا تحفظ کرنے کی بجائے نظرانوں اور چندوں پر عیاشیاں کر کے اپنے حجروں میں بیٹھ کر تسبیح پھیرتے رہیں لیکن اسلام کے تحفظ کیلئے توہین اسلام پر کوئی آواز نہ اٹھائیں
لہٰذا اب عوام اہلسنت پاکستان میں اسلام کے نظام کے نفاذ کیلئے تحریک لبیک پاکستان کا ساتھ دے اور ان بہروپیوں کو پہچانے جو یہود و نصاریٰ کی مرضی کا دین بیان کر کے صرف اخلاقیات اور چندے وصول کرنے کا درس تو دیتے ہیں لیکن غیرت و حمیت و جہاد اور اسلامی نظام شریعت کے نفاذ کی بات نہیں کرتے اور توہین ناموس رسالت صلی الله تعالی علیه وآله واصحابه وبارک وسلم اور توہین اسلام پر گونگے شیطان بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وقت کے یزید اور فرعون صفت حکمرانوں کی گود میں بیٹھ کر اسلام دشمن حکمرانوں کے تلوے چاٹتے ہیں اور ان کی خوشامد کرتے ہیں تو اس وقت ان دو ٹکے کے مفتیوں کو سارے فتوے بھول جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیٹ کو دین سمجھا ہوا ہے
لیکن اسلام نے اخلاقیات کے ساتھ جہاد اور اسلام کے نظام کی حکمرانی کا بھی حکم دیا ہے لیکن موجودہ مولویوں ، پیروں اور گدی نشینوں کی اکثریت اصل دین چھپا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی ہے
ان بہروپیوں کے متعلق ہی مفکر پاکستان قلندر لاہوری حکیم الامت ڈاکٹر حضرت علامہ محمد اقبال رحمته الله تعالی علیه نے فرمایا تھا کہ
ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی
Tags
Urdu Blogs
دوٹکےکے مفتی سے کیامراد ہےآپکی؟ بڑےبڑے علماء کرام جنہوں نے اس مسئلہ پرتوجہ مبذول کرائی ان سب کو یہ لقب دے رہے ہیں آپ ؟؟؟؟ افسوس صد افسوس
ReplyDelete