(تحریک پاکستان اور موجودہ حکمران)
پاکستان کا قیام بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان ایک مخصوص نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ٫ جسے نظریہ پاکستان سے موسوم کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں مسلمان آٹھ سو سال تک شان و شوکت سے حکومت کر چکے تھے ۔اپنوں کی نادانیوں اور غیروں کی سازشوں کی وجہ سے انگریزوں نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا ۔جس کے نتیجے میں غلامی کا دور دیکھنا پڑا، انگریز سامراج نے قریباً سو سال تک یہاں کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا ۔غلامی کا یہ بدترین دور تھا۔
اس حوالے سے علامہ اقبال نے فرمایا،
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے مثل جوئے کم آب۔۔۔
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی۔۔۔
اس مشکل وقت میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم شخصیات عطا کیں۔
جنہوں نے مسلمانوں کی ڈگمگاتی کشتی کو ساحل تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر۔۔۔
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر۔۔۔
مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ایک اجلاس میں صدارتی خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا؛
ہندوستان ایک براعظم ہے جس میں مختلف قومیں آباد ہیں ان کی نسلیں٫ ان کی زبان جدا٫ ان کا مذہب الگ اور ان کا طرز عمل اس شعور سے متاثر نہیں ہوتا کہ وہ ایک نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ صوبہ سرحد ٫ بلوچستان اور سندھ ایک وحدت بن جائے۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی اس خواہش نے کروڑوں مسلمانوں میں ایک نئی امنگ اور جرآت پیدا کر دی ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں۔۔۔
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔۔۔
ہندوستان میں ایسے فرزندان اسلام پیدا ہوئے جن کی عزیمت٫ حکمت ٫ ریاضت ٫ عبادت ٫ قیادت ٫ اور سیاست کا مقابلہ باطل قوتیں نہ کر سکیں وطن کے حصول کے لیے لاکھوں جوانوں نے خون کے نذرانے پیش کیے تب جا کر یہ وطن حاصل ہوا۔۔
تیری بنیاد میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو۔۔
تجھے ہم گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں۔۔
پاکستان کو حاصل کیے ہوئے کئی برس بیت جانے کے بعد بھی افسوس کا مقام ہے کہ جس مقصد کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا اسے ہم بھول چکے ہیں۔پاکستان اسلامی نظام کو عملی شکل دینے کے لیے حاصل کیا گیا تھا تا کہ یہاں کے لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران اسلامی نظام نافذ کرنا تو دور اسلام بیزار لوگ ہیں جو چند ووٹوں کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کر بیٹھتے ہیں،
کہیں کرسمس کے کیک کاٹے جاتے ہیں، تو کہیں مندر بنانے کی باتیں جاتی ہیں،
کہیں عیسائیوں کو فنڈز دینے کی باتیں ہوتی ہیں تو کہیں مذہب کی بات نہ کرنے پر زور ڈالا جاتا ہے۔ کبھی اقلیتوں کی آڑ میں قادیانیوں کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے تو کبھی ختم نبوت کے ساتھ غداریاں کرنے کے بعد محافظین ختم نبوت پر گولیاں اور شیل برسائے جاتے ہیں کبھی ناموس رسالت پہ پہرہ دینے والوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر ظلم کی داستان رقم کی جاتی ہے۔
غرض ہر طرف صاحب اقتدار لوگ اسلام بیزار دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان میں رہ کر تخت نشین ہونے کے بعد اسلام اور پاکستان کے ساتھ غداریاں کرتے ہیں ۔۔۔
علامہ اقبال نے تو فرمایا تھا:
اللہ سے کرے دور وہ تعلیم بھی فتنہ۔۔
اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ۔۔
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ..۔۔
شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ۔۔۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام بیزار یہود و نصاری کے ایجنٹ لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے پاکستان کلمے کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے۔
قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے کانگریس کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا تھا؛
ہندوستان میں مسلمانوں کو ایک کامل متحد محاذ اور صدق دلانہ نصب العین کی ضرورت ہے کانگرس نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے !
اس اعلان حق نے ہندوستان کے طول و عرض میں ہلچل پیدا کر دی۔مسلمانوں کا بچہ بچہ بیدار ہو چکا تھا اور یہ نعرہ لگا رہا تھا:
بن کے رہے گا پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الااللہ
مسلمانوں نے اسلام کی سر بلندی اور اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کی۔۔
جو خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جو پاکستان قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ بنانا چاہتے تھے تحریک لبیک پاکستان وہ وعدہ وفا کرنا چاہتی ہے۔ تحریک لبیک وہ واحد سیاسی اور مذہبی جماعت ہے جس کا منشور اسلام، عوام اور پاکستان ہے۔
ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس میں اسلامی نظام رائج کریں اسلام اور قرآن کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔۔
اس عظیم مشن میں تحریک لبیک پاکستان کا ساتھ دیں تا کہ پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کا نام روشن ہو سکے اور ترقی یافتہ خوشحال پاکستان کا خواب پورا ہو سکے۔
ہم ہی ہیں وطن عزیز کے رکھوالے۔۔
ہم ہیں حرف لاالہ کے ترجمان بے خطر۔۔
از قلم: ثناء رضویہ
ماشاءاللہ پیاری بہنا ♥️
ReplyDelete