Why TLP is the need of time?

وقت کی ضرورت تحریک لبیک پاکستان
حالیہ دنوں میں ہونے والے الیکشن ہونے کے بعد ہر طرف ایک ہی بات ہے دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کی چاہت سے پسندیدہ امیدوار  سلیکٹ کیے گئے ہیں، لیکن اس نظام کے خلاف کھڑا کوئی نہیں ہو پایا ستر سال سے یہی دیکھتے آرہے ہیں اگر اسٹیبلشمنٹ کی نوازش کسی بھی پارٹی پر ہوتی ہے تو ہمارے اس ملک میں اسکو جیت کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ صاف شفاف انتخابات ہوں یا پھر قوم کا فیصلہ سنایا جائے تو آپ کو اپنے پر ہونے والے احسانات والے ہاتھ کو دور کرنا ہوگا
دھاندلی کرنے والوں کو پکڑنا ہوگا اس دھاندلی کا حصہ نہیں بننا ہوگا  
اگر ماضی کی طرف نظر دوڑائی جائے تو عمران نیازی اسٹیبلشمنٹ کے لائے گئے لوگوں کے خلاف نظر آتے ہیں تو میرا ان سے سوال ہے جب 2018 میں آپ کو سلیکٹ کیا گیا تھا اس وقت آپ نے اس کے خلاف آواز کیوں نا اٹھائی کہ میں صرف عوام کے اعتماد پر ہی آؤں گا پر خان صاحب نے تو اسکو عوام کا فیصلہ سمجھتے ہوئے خود کو سلیکٹڈ نہیں بلکہ الیکٹڈ سمجھ لیا اور جب اقتدار چھن گیا تو اس نظام کے خلاف نکل پڑے اگر یہی حکمران اس نظام کے خلاف ہوتے تو آج یہ فرسودہ نظام اس قدر جڑیں مظبوط نا کرتا،
 اسی طرح کراچی کے الیکشن میں بھی یہی صورتحال نظر آئی جو ماضی میں نظر آتی رہی سرعام دھاندلی کرنے والے بھی نظام بدلنے کے خواہشمند ہیں افسوس ان تمام حکمرانوں نے مل کر اس نظام کو بگاڑ دیا ہے
 اب اس نظام کو بدلنے کے لیے صرف وہی آسکتا ہے جو اسکا حصہ کبھی نا بنے، چور کو پکڑنے کے لیے چور آئے گا تو اس ملک میں چوری بڑھے گی یہ کہنا کہ نواز شریف بڑا چور تھا اور عمران خان ایک گھڑی چور ہی تو ہے لہذا ہم چھوٹے چور کو ملک کی رکھوالی کے لیے رکھ لیں! افسوس اسی سوچ نے ہماری حالت یہ کردی ہے
 آج قوم کا مسئلہ ووٹ نہیں روٹی ہے، آٹا ہے، لیکن ہمارے سیاستدان ووٹ ووٹ کھیل لیں فرصت میں دیکھیں گے کتنی قوم زندہ بچی ہے، خدارا! ان ظالم حکمرانوں کی سازشوں کو سمجھیں وقتی چار پانچ ہزار دیکر آپ کا ووٹ خرید کر آپ سے کئ پانچ ہزار نکلواتے ہیں اور پھر آپکو آٹے چینی گھی کے لیے سسکتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں 
حالیہ سیلاب کے دنوں میں ایک جانب تمام سیاسی جماعتیں کرسی کی جنگ میں مصروف تھیں اور دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان سیلاب زدگان کی بحالی اور امداد میں مصروف تھی، یہی فرق ہے عوامی تحریک اور لبرل سیاسی جماعتوں میں،
یاد رکھئیے! اس ملک کی تقدیر صرف وہی بدل سکتا ہے جو آپکی طرح ہوگا جس کا رہن سہن آپکی طرح ہوگا کیوں کہ وہی آپکی تکلیف آپکی ضرورتوں کو محسوس کرسکتا ہے جنکی اولادوں نے یورپ میں نہیں بلکہ پاکستان میں اپنے لوگوں کے درمیان پرورش ہو، اور عوام کے دکھ سکھ جانتے ہوں،
 آئیے مل کر اس نظام کے خلاف کھڑے ہوں جو سات دہائیوں سے قوم کی تقدیر نہ بدل سکا بلکہ اشرافیہ کو ہی مضبوط کرتا رہا،
غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے گئے،
  آئیے نظام اسلام کیلئے حافظ سعد رضوی کا ساتھ دیجیے،
جس پر نا کرپشن کا کیس ہے نہ ان کے ہاتھ کسی مظلوم کے خون سے ہاتھ آلودہ ہیں!
 یہی وہ شخصیت ہیں جو صرف اپنی قوم اور پرچم اسلام کی سربلندی کیلئے اس نظام کے خلاف تن تنہا لڑ رہے ہیں، 

اللّٰہ عزوجل سے دعا گو ہوں ہمیں اس نیک اور عظیم مشن میں تحریک لبیک پاکستان کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین 

ابرش نور ✍️

Post a Comment

Previous Post Next Post