ڈرو خدا ہوش کرو کچھ مکر و ریا سے کام نہ لو

 ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر

گناہ کرتا ہے خود اور لعنت بھیجتا ہے شیطان پر 

قانون فطرت ہے کہ جب کائنات میں باطل قوتیں سر اٹھاتی ہیں تو اسے کچلنے کے لیے حق کی طاقت سامنے آتی ہے

صدیوں سے یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے جب غدار سر اٹھاتے ہیں تو اللہ محافظوں کو بھی بھیج دیتا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی ایک تعداد منافقین کی ہوتی ہے۔جو اپنی سازشوں کے ذریعے حق کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا باہمی انتشار شیطان کی سب سے بڑی کامیابی ہے یہ انتشار ہمیشہ الزام و بہتان کی نفسیات سے پیدا ہوتا ہے۔ہر معاشرے میں شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔۔جو حق کا راستہ روکنے کے لیے الزام و بہتان لگانے کی کوشش کرتے ہیں

 الزام یا تہمت لگانا کیسا ہے؟

مفہوم فرمان رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم:

جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی ( الزام لگایا ٫ تہمت یا جھوٹ بات منسوب کی ) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں تو اللہ اسے الزام لگانے والے ٫ جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا۔( وہ آخرت میں اسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ وہ دنیا میں اپنی اس حرکت سے باز آ جائے رک جائے توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جو شخص کسی کو بدنام کرنے کے لیے کسی میں ایسی برائی بیان کرے جو اس میں نہ ہو تو اللہ پاک اسے دوزخ کی آگ میں قید رکھیں گے۔یہاں تک کہ وہ اس برائی کو ثابت کر دے۔ وہ ثابت نہیں کر سکے گا۔۔

(اور جو شخص گناہ یا خطاء کا کام تو خود کرے پھر اسے بے گناہ کے ذمہ تھوپ دے اس نے (بہتان یعنی تہمت یا جھوٹا الزام) اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا

ڈرو خدا سے ہوش کرو یوں مکرو ریا سے کام نہ لو

یا اسلام پہ چلنا سیکھو یا اسلام کا نام نہ لو

از قلم: ثناء اقبال

Post a Comment

Previous Post Next Post