ایک شیل لگنے پر عدالتوں کے از خود نوٹس، میڈیا کی چیخ و پکار، ہیومن رائٹس والوں کی طرف سے انسانیت کے درس
مگر جب تحریک لبیک پاکستان پر ظلم ہو رہا تھا تو یہ نام نہاد صحافی ۔۔ہیومن رائٹس والی آنٹیاں اور مغرب زرہ میڈہا کہاں تھا، اس وقت ان کی زبانوں پر تالے کیوں لگے ہوئے تھے۔اس وقت یہ گونگے شیطان کیوں بنے ہوئے تھے، اس وقت تو ظلم اس سے دوسو گنا زیادہ تھا۔لیکن وہاں ظلم مغرب کے ایجنٹوں پر نہیں ہو رہا تھا بلکہ ظلم سہنے والے عشاقان رسولﷺ تھے، گولیاں عشاقان رسولﷺ کے سینے چھلنی کر رہیں تھی۔ہیلی کاپٹروں کی مدد سے تیزاب پھینکا جا رہا تھا، اس وقت نام نہاد دلال صحافی اور چند عقل سے پیدل تجزیہ نگار ظلم سہنے کے باوجود الٹا لبیک والوں کو دہشتگرد کہ رہے تھے
آخر ظلم کے اس بازار میں دوہرا معیار کیوں؟
کیا لبیک والے پاکستان کے شہری نہیں؟
کیا لبیک والے انسان نہیں ۔اگر انسان ہیں تو انکے اوپر ہونیوالے ظلم پر ہر کسی کے زبان پر تالے کیوں تھے؟
ظلم سہنے کے باوجود گولیاں کھانے کے باجود جیل جانے کے باوجود لبیک والے دہشتگرد کیوں؟
کیا ان سوالوں کے جواب کسی نام نہاد صحافی،ہیومن رائٹس کی تنظیموں اور نام نہاد منصفوں کے پاس ہے؟
کیا ان سوالات کے جواب کسی تجزیہ نگار کے پاس ہے؟
جب تک پاکستان میں طاقتور اور غریب کے لیئے انصاف کا معیار برابر نہیں ہو گاملک کبھی ترقی نہییں کر سکتا ۔ملک میں عدل و انصاف کا بول بالا تب ہی ہو گا جب دین تخت پہ آئے گا، جب نظام مصطفیﷺ اس ملک میں نافذ ہو گا، جب تخت کا وارث کوئی شرابی یا زانی نہیں ہو گا بلکہ حافظ قرآن و عالم ہو گا، جب تخت پر بیٹھنے والا امریکہ و یہود و ہنود کی غلامی کے بجائے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کرنیوالا ہو گا
پاکستانیوں اب بہت ہو گیا لوٹ آو دین کی طرف کسی دین دار کو اپنے ووٹ کی پرچی دو آنے والی نسلوں کی بھلائی دین کی طرف لوٹنے میں ہی ہے، اور نظام مصطفیﷺ کے نفاذ میں ہی ہے
اللہ تعالی آپ سب کا حافی و ناصر ہو
