شب برات میں آتش بازی کرنا کیسا؟



 امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن آتش بازی کے حوالے سےفرماتے ہیں:’’آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب براءت میں رائج ہے،بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال (مال کو ضائع کرنا)ہے ،قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا۔قال اللہ تعالیٰ﴿ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا  اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ  وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا﴾:اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:کسی طرح بے جا خرچ نہ کیا  کرو ،کیونکہ بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’ان اللہ تعالیٰ کرہ لکم ثلٰثا قیل وقال واضاعۃ المال وکثرۃ السوال۔‘‘ رواہ البخاری عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ عنہ:بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین کاموں کو ناپسند فرمایا(1)فضول باتیں کرنا(2)مال ضائع کرنا(3)بہت زیادہ سوال کرنااور مانگنا،امام بخاری نے اس کو حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے۔

    شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی ماثبت بالسنۃ میں فرماتے ہیں:’’من البدع الشنیعۃ ما تعارف الناس فی اکثر بلادالھند من اجتماعھم للھو واللعب واحراق الکبریت:بُری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں  جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشہ کرنے کے لیے جمع ہونا گندھک جلاناوغیرہ۔‘‘

(فتاوٰی رضویہ،جلد23،صفحہ279، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

    رات کے وقت آتش بازی کرنایقیناً مسلمانوں کی ایذا کا باعث بنتی ہےاور بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو اذیت دینا بھی حرام ہے، حدیث پاک میں ہے:’’من اٰذی مسلماً، فقد اٰذانی، ومن اٰذانی، فقد اذی اللہ‘‘ ترجمہ : جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی، اس نے اللہ کو ایذا دی ۔

( المعجم الاوسط، باب السین، من اسمہ سعید، جلد 4، صفحہ 60، دار الحرمین، قاھرہ )

    حرام کام کا تماشہ دیکھنا بھی حرام ہے،چنانچہ درمختار پھر ردالمحتار میں ہے:’’کرہ کل لھو والاطلاق شامل لنفس الفعل واستماعہ‘‘ترجمہ:ہرکھیل مکروہ ہے اور اس کو مطلق ذکرکرنا اس کے کرنے اور سننے دونوں کو شامل ہے۔

(درمختار مع ردالمحتار،جلد9،صفحہ651،مطبوعہ پشاور )

    حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:’’الفرجۃ علی المحرم حرام‘‘ترجمہ:کسی حرام کام پر خوش ہونابھی حرام ہے۔

(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر،جلد1،صفحہ31،مطبوعہ کوئٹہ)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:’’شعبدہ باز بھان متی بازیگر کے افعال حرام ہیں اور اس کا تماشہ دیکھنا بھی حرام ہے کہ حرام کو تماشہ بنانا بھی حرام ہے۔‘‘                                                                                                  

(فتاوٰی رضویہ،جلد21،صفحہ159، رضافاؤنڈیشن ، لاھور )

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

از قلم : علامہ ناصر رضوی

Post a Comment

Previous Post Next Post