دو ہی راستے ہیں، گرفتاری یا شہادت۔ان کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے

 بانی تحریک لبیک یا رسول اللّٰہﷺ (پاکستان) امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی نور اللہ مرقد کا ہم نیوز کو دیا گیا انٹرویو 

سوال1 : آپ کے مطالبات کیا ہیں؟ 

جواب : مطالبہ یہی ہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں جن لوگوں نے تبدیلی کی ہے ان کو سامنے لایا جائے۔سب سے بڑا مجرم زید حامد ہے، پہلے اس کو برطرف کیا جائے۔بعد میں بات ہو گی دوسرے مطالبات پر۔

سوال2: کیا حکومت کی طرف سے کوئی مذاکرات کی کوشش کی گئی؟ 

جواب: صبح شام ان کی طرف سے معاملات چل رہے ہیں لیکن وہ چوروں کے ساتھ خود بھی ملے ہوئے ہیں،وہ خود بھی چور ہیں تو وہ بھاگنا چاہتے ہیں۔ان شاء اللہ ہم گے یہ معاملہ حل کروائے بغیر نہیں جائیں گے۔ 





سوال3:اگر آپ کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تو آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟

جواب:دو ہی راستے ہیں، گرفتاری یا شہادت۔ان کے علاوہ تیسرا راستہ نہیں ہے۔

سوال4:علامہ صاحب سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہےاور بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ حضور اکرامﷺنے تو کہا تھا کہ راستوں سے رکاوٹیں ہٹاٸیں، راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کا بھی ثواب ہے۔ یہ رکاوٹیں لگا کر مطالبات کیوں تسلیم کروائے جارہے ہیں؟

جواب:حضورﷺنےفتح مکہ والے دن حضورﷺنے سارے راستے چیکنگ کے لیے بند کروا دیے تھے، ہم نے بھی راستے بند کرواۓ ہیں تاکہ چیکنگ ہوسکے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کس نے کی ہے۔

سوال5: ایک اور چیز کہی جارہی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد ہیں

جواب:سیاست حلقہ 120 میں کر چکے ہیں اور ان کو لتاڑ چکے ہیں اور جب سیاست کرنی ہو گی تو ہم اعلان کریں گے کہ ہاں ہم سیاست کے لیے آۓ ہیں، یہاں تو صرف حضورﷺکی ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے آۓ ہیں۔

سوال6: کیا زید حامد کے استعفے کے بعد یہ لانگ مارچ ختم کر دیا جاۓ گا یا مذاکرات ہونگے یا لانگ مارچ جاری رہے گا یا مزید مطالبات ہونگے؟

جواب:اس کے بعد مذاکرات ہوں گے 


Post a Comment

Previous Post Next Post