شرلیاں پٹاخے
اگر گھر میں میت پڑی ہو اور اہلخانہ باجے بجانا شروع کر دیں،سارا خاندان ناچ شروع کر دے اور قبیلے والے گانے لگیں تو کیسا لگے گا!
قارئین کرام!جب عصمتوں کے جنازے نکل رہے ہوں،جب تعلیم کے نام پر پاکستان میں خواتین کی عزتیں پامال کی جا رہی ہوں اور جب یونیورسٹیوں کے سکیورٹی آفیسرز کے موبائل سے بچیوں کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہو رہی ہوں تو کیا 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر رقص و سرود کی محافل گرم ہونی چاہئیں؟ کیا کچھی آپ نے دیکھا کہ گلشن تو جھلس رہا ہو اور پرندے نغمہ طراز ہوں؟کیا کسی نے ایسا مشاہدہ کیا کہ جنگل سارا آگ کی لپیٹ میں ہو اور چڑیاں خوشی سے چہچہا رہی ہوں؟ یقیناً نہیں! تو پھر ہمیں کیا خوشی آئی ہوئی ہے کہ چمن لٹ رہا ہے اور ہم ڈھول ڈھمکوں میں مصروف ہیں؟ کیا یومِ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اس دن حیا باختگی کا وہ مظاہرہ کیا جائے جس سے یورپ کا مادر پدر آزاد معاشرہ بھی شرما جائے؟ ہم نے آخر تیر کونسا مار لیا کہ جس کی خوشی میں یومِ آزادی انتہائی بدمستی کے عالم میں مناتے ہیں؟ بچے بھوکوں مر رہے ہیں، دودھ تک میسر نہیں، غربت ہر شخص کے گلے گلے تک آئی ہوئی ہے،مزدور دن کو جو کماتا ہے شام کو ٹیکسوں کی صورت میں استحصالیوں کی نذر کر آتا ہے اور ہم شرلیاں پٹاخے چلا چلا کر یومِ آزادی کا استقبال کرتے ہیں۔ہر کوئی اس دیس میں بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے۔کوئی نظریۂ پاکستان کے خلاف کھلم کھلا بول رہا ہے تو کوئی اسلام کو دیس نکالا دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ہولیاں اور دیوالیاں منا کر دو قومی نظریے کا عملاً انکار کیا جا رہا ہے۔ ملک کے سیاستدان شیخ مجیب الرحمٰن کی طرح کی حقیقی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ملک کے کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانے کی پیشنگوئیاں کر رہے ہیں۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی توہین کے مرتکبین کو گلے لگایا جا رہا ہے۔اسلام مخالف قانون سازی ہو رہی ہے۔باطل قوتوں کا ایک طوفان ہے جو ہر طرف سے پاکستان کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔سینما گھروں کے افتتاح ہو رہےہیں اور فلم سازی کو وزراء مکمل طور پر ٹیکس فری کرنے کے اعلانات کر رہے ہیں۔
یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ہزاروں عصمتیں لٹی تھیں، لاکھوں لوگ شہید ہوئے تھے۔وہ فلمیں دیکھنے کے لئے یہ قربانیاں نہیں دے رہے تھے، وہ امریکی اور یورپی چاکروں کی غلامی کرنے کے لئے یہاں نہیں آ رہے تھے۔قیام پاکستان کے وقت جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کا مقصد وہ وطن نہیں تھا کہ جس میں ڈر ڈر کر اسلام پیش کیا جا سکے گا، جس وطن میں ناموس رسالت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی بات کرنے والوں کو پابند سلاسل کر دیا جائے گا،جس وطن کی اسمبلیوں میں ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی جائے گی،جس وطن کے سیاستدان مرزائیوں کو بہن بھائی کہا کریں گے،جس وطن میں ریاست مدینہ کے اصولوں پر ملک چلانے کا دعویٰ کر کے حکمران گستاخانِ رسول کی حمایت میں اتنے آگے چلے جائیں گے کہ جو لوگ ان گستاخوں کے خلاف احتجاج کریں گے انہیں پاکستان کی سڑکوں پر تہہ تیغ کر دیا جائے گا،جس وطن میں جاہل سیاستدان اسلام کی من مانی تشریحات کیا کریں گے،جس وطن میں ایسے لوگ سیاست کے میدان میں سرگرم ہوں گے جن کو خاتم النبیین پڑھنا بھی نہیں آتا ہو گا۔
اس ملک میں سینکڑوں دانشور ہیں،ہر کسی کا اپنا موقف ہے۔بلکہ دانشوروں کو چھوڑ دیں یہاں تو ان گنت تجزیہ کار بھی ہیں۔اس ملک کا ہر فرد خود کو بہت بڑا تجزیہ کار سمجھتا ہے۔فضول کا بحث مباحثہ ہر گلی کوچے میں جاری ہے۔آپ سب کو چھوڑ دیں،صرف اپنے دل سے ایک بار پوچھیں کہ جو لوگ اپنی جائیدادیں، کاروبار اور گھر بار چھوڑ کر،لٹے پٹے قافلوں کی صورت میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے ان کا مقصد کیا تھا؟ آپ اپنے دل سے یہ پوچھیں کہ کیا کوئی شخص بلا مقصد رخت سفر باندھ کر اپنا سارا مال و متاع چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہوتا ہے؟ اگر آپ کو کوئی کہے کہ آپ اس جگہ سے کسی دوسری جگہ سفر کریں، عارضی سفر۔۔۔۔ مستقل قیام نہیں، تو کیا آپ بلا وجہ وہاں کا سفر کریں گے؟ آپ تو اس سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ تو پھر لاکھوں مسلمان سب کچھ قربان کر کے پاکستان کے لئے ہندوستان سے کیوں روانہ ہوئے تھے؟اگر یہ لوگ میوزک انڈسٹری کی ترقی دیکھنے کے لئے آئے تھے تو یقیناً ہندوستان اس کام میں ہم سے آگے ہے،اگر ان لوگوں کے یہاں آنے کا مقصد ون ویلنگ تھا تو یہ کام ہندوستان میں بھی ہو سکتا تھا، اگر وہ لوگ اس ملک کی طرف اس لئے آئے تھے کہ یہاں سرکاری سکولوں میں موسیقی کی تعلیم دی جائے گی تو وہ بھی ہندوستان میں ممکن تھا اور اگر وہ یومِ آزادی کے موقع پر رنگوں کی برسات دیکھنے کے لئے یہاں آئے تھے تو یہ کام تو ہندوستان میں بھی بڑی شان و شوکت سے ہوتا ہے، لال قلعہ 15 اگست کو رامش گاہ بنتا ہے اور نشاط و طرب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔پھر سوچئے کہ اس عظیم نقل مکانی کا مقصد کیا تھا؟
قارئین کرام!ہم چھہتر سالوں سے ان لاکھوں روحوں کے ساتھ بے وفائی کر رہے ہیں جنہوں نے ایک عظیم مقصد کے تحت پاکستان کے قیام کے وقت اپنی جانیں جانِ آفریں کے سپرد کی تھیں۔ہم نے ان ہزاروں مسلمان عورتوں کی عصمتوں سے غداری کی ہے جنہوں نے پاکستان بنتے وقت اپنے دو پٹوں کی ناموس فدا کی تھی۔ بحیثیت پاکستانی مسلمان ہم پر بہت بڑا جرم عائد ہوتا ہے۔جو مقاصد ہمارے اسلاف کے پیشِ نظر تھے ان کی تکمیل کی لئے تو ہم نے کچھ نہ کیا البتہ لہو ولعب میں مشغول ضرور ہو گئے۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ تو نہ بنا سکے البتہ بے حیائی کا اڈا بنا دیا۔ محمود غزنوی کے جانشین کی حیثیت سے اصنامِ ہند تو پاش پاش کرنے کے لئے واپس ہندوستان نہ جا سکے لیکن اس ملک میں ہر قسم کے بتکدے تعمیر کر دیئے۔ سومنات گرانے کا حوصلہ نہ تھا تو ہم نے اپنی بغلوں میں ہزار ہا منات چھپا لیے۔ دین کے لئے جان و مال نہ دے سکتے تھے لیکن ہوسِ زر کو سینوں میں ضرور بسایا۔دیانتداری، خلوص اور نیک نیتی سے اس ملک کو باغ وبہار تو نہیں بنا سکے لیکن اخلاقی گراوٹ کے ذریعہ کانٹے ضرور اگائے۔ہم نے محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کر کے کھیتوں کھلیانوں کو سیراب کرنے کا فریضہ تو سر انجام نہ دیا لیکن نفرتوں کی آگ بھڑکا کر کر اس دیس میں بسنے والوں کی تمناؤں کو بھسم کر دیا۔
اس ملک کے سیاستدانوں نے یہاں بسنے والوں کو بھوک اور افلاس سے مارا، گولیوں سے بھونا اور ڈالروں سے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے امریکہ کے ہاتھ بیچا۔لیکن درحقیقت ان سیاستدانوں کو اسی ملک کے عوام اقتدار تک پہنچاتے ہیں اور جب یہ اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کی عوام سے شناسائی ختم ہو جاتی ہے۔عوام کو اپنا فکری اور سیاسی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے لئے پریشان کن بات صرف یہ نہیں کہ ہم لٹ گئے بلکہ تکلیف تو اس بات کی زیادہ ہے کہ نہ تو اس بات کا ادراک ہے کہ ہمارے ہاتھوں میں خزانہ کتنا تھا اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ ہمارا خزانہ کون چرا کر لے گیا، نہ یہ علم کہ کتنی گندم ہمارے گودام میں تھی اور نہ اس بات کی خبر کہ ہمارے گودام میں کوئی آگ لگا گیا ہے اور ہماری سال بھر کی محنت راکھ ہو رہی ہے۔اس صورت حال کے زمہ دار پاکستان کے مسلمان عوام ہیں اور عوام ہی پاکستان کو بہتری کی جانب لے کر جا سکتے ہیں بشرطیکہ تمام خرافات اور سیاستدانوں کی چاپلوسیاں چھوڑ کر دین اسلام کو تخت پر لانے کے لئے متحد ہو جائیں۔
14 اگست کو ہونے والے بے حیائی کے مظاہروں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "تم غیرت سے آزاد ہو گئے ہو؟شرم سے آزاد ہو گئے ہو؟ایمان سے آزاد ہو گئے؟آزاد تو ہم کفر سے ہوئے تھے اور پابند ہوئے تھے اسلام کے۔اسلام ان حرکتوں کی اجازت نہیں دیتا جو تم 14 اگست کو کرتے ہو"
