کہتے ہیں کہ اس نے بل پیش کیا ہے اقوام متحدہ میں، اب وہ اس ملک کی بیٹیوں کو بازاروں میں نچوائے یا جلسوں میں کوئی حرج نہیں
اس نے تقریر کی ہے اقوام عالم میں اب وہ شریعت میں فضولیات بکواسات کرے تو بھی خیر ہے
اس نے اسلاموفوبیا کا بل منظور کروایا ہے اب چاہے اس کی پارٹی ورکر شریں مزاری (عورت کے نام دھبہ) بے حیائی کے بل پیش کرے یا منظور کروائے حرج کی بات نہیں،
بندہ ایمان دار ہے بس اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رشتہ دار مرزائیوں کو اقتدار کے منصب دیتا رہے
اسلام اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لئے امن کا درس دیتا ہے وہی اقلیتیں اسلام کو صحفہ ہستی سے مٹانے میں لگی ہوئی ہیں وہ نظر نہیں آتا
بس 12 موسم نظر آتے ہیں
میانوالی کی گرمی دوزخ کی گرمی سے زیادہ محسوس ہوتی ہے
انڈے اور کٹے بیچ کر معیار معیشت بہتر ہوتی ہے
پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو چند سیٹوں کے عوض کیسے وزیر بنانا ہے کوئی ان سے سیکھے
ساڑھے 3 سال میں جو قوم کو جاہلانہ خیالات تصورات دیئے وہ الگ!
کیسے دوسروں پر جھوٹے الزامات اور بہتان لگانے ہیں کیسے جھوٹ کو سچ بنانا ہے اور کیسے گالم گلوچ کرنی ہے!
یوتھ اور اس کا منافق اعظم جو مرضی کریں ان کیلئے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کا خائن ہاتھ میں تسبیح لیے پھرتا ہے اور اسلامی ٹچ بھی دینے میں ماہر ہے
لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ صرف ٹچ دینے سے مسلمان ہونے کا حق ادا نہیں ہو جاتا
اگر صرف ایک ٹچ دینے سے بخشش ہو جاتی تو ابو جہل اور ابو لہب ایسے ٹچ دینے میں نیازی سے ذیادہ ماہر تھے
اسلام امن کا درس تب تک دیتا ہے جب تک کوئی شعائر السلام کے ساتھ نہ چھیڑے اور اگر کوئی اسلام یا مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرے تو پھر اسلام جہاد کی ترغیب بھی دیتا ہے،
اسی اسلام نے ہی تو جنگ یمامہ میں بارہ سو سے زائد صحابہ کرام سے اپنی جانوں کی قربانیاں لیں تھیں اور یہی اسلام امام عالی مقام کو کربلا میں لے کر گیا تھا،
اسلام صرف ایک تقریر کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اسلام ہاتھ میں تلوار لیے عملی میدان میں تبلیغ کرنے کا نام بھی ہے،
ہم صرف تقریروں سے خوش ہوتے رہے اور حلوے کھاتے رہے دنیا ہم سے آگے گزر گئی،
اقوام عالم ہمارے دلوں کی دھڑکن حضور سرورِ کائنات کی شان کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک ہم تقریروں سے نکل کر عملی میدان میں نہیں آتے،
لیکن یہ عمران نیازی جو کشمیر کیلئے جہاد کو نکلے ان کو غدار قرار دے دے جو ناموس رسالت کیلئے نکلیں انہیں دہشتگرد قراد دلوا دے کیا ایسے کی جائے کی امت مسلمہ کی ترجمانی؟؟
ہرگز نہیں! ایسی تقریروں اور ٹچ والوں کے بارے میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ بہت پہلے ہی بتا گئے تھے کہ یہ لوگ کبھی بھی امت مسلمہ کی ترجمانی کے اہل نہیں ہو سکتے
تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی!
کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا،
ازقلم؛ محمد توحید
