ہر سال کی طرح اس سال بھی 12 ربیع الاول کے مبارک دن کو پوری دنیا میں حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منایا گیا
جس میں خصوصی طور پر تحریک لبیک پاکستان کے زیر اہتمام مختلف شہروں میں جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں، لاہور و کراچی سمیت تمام شہروں میں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تعداد نے شرکت کی!
لیکن اس مرتبہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جلوس میلاد النبی پر ایک حیرت ناک رد عمل سامنے آیا ہے ایک جانب عاشقان رسول اپنے آقا و مولا پر درود و سلام کے نذرانے پیش کرتے ہوئے جھوم جھوم کر جلوس نکالے ہوئے تھے اور دوسری جانب ابلیس کے یاروں کو میلاد سے شدید تکلیف ہو رہی تھی جو کہ ان کی برداشت سے باہر ہو گئی اور بزدلوں نے عاشقان مصطفٰی پر شیلنگ شروع کر دی، وہ سمجھتے تھے یہ بازاری عاشق ہیں دو شیل پڑیں گے جلوس کے شرکاء منتشر ہو جائیں گے لیکن وہ یہ بات بھول رہے تھے کہ یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ مجاہد ہیں ان پر نہ تو گولیاں اثر کرتی ہیں اور نہ ہی شیل، یہ نہ جیلوں سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتوں سے،
خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس ایک مرتبہ شیلنگ کر کے اور تحریک لبیک کے کارکنان و قیادت کو گرفتار کر کے بے فکر ہو گئے ہیں لیکن ابھی معاملہ ختم نہیں ہوا ابھی ہی تو اصل میدان لگنا ہے!
شیر امیر المجاھدین علامہ سعد حسین رضوی صاحب نے اپنے کارکنوں پر شیلنگ کا سن کر اگلے اتوار مؤرخہ 16 اکتوبر کو اسی حویلیاں شہر، ہری پور ہزارہ، ایبٹ آباد ڈویژن میں صبح دس بجے اپنی قیادت میں اسی روٹ پر ایک مرتبہ پھر جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا!
یہ شیر آزمائے ہوئے ہیں یہ نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں
ان شاءاللہ حویلیاں میں تاریخی جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا۔
قائد ملت اسلامیہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب نے کہا تم اس مرتبہ گولیاں، شیل، ٹینک سب کچھ لے کر آنا پھر میں بھی وہیں ہوں گا ہم تمہیں بتائیں گے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس کیسے نکالے جاتے ہیں اور ہم دیکھیں گے تم ہمیں کیسے روک پاؤ گے،
یہی تو ایک مرد مجاہد ہے جو اہلسنت کا ترجمان بن کر پوری دنیا کے کفر کو للکار رہا ہے اس لیے تمام کارکنان اور محبین و مخلصین اگلے اتوار کو حویلیاں شہر میں جلوس میلاد النبی میں بھرپور طریقے سے شرکت فرمائیں اور اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہو کر اس بات کا اعلان کریں کہ
مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گے
احرار کبھی ترک روایت نہ کریں گے

