سیاست دین سے الگ نہیں ، دینی اصولوں کے مطابق سیاست کرنا اللّٰہ تعالٰی کے نبیوں کی سنت مبارکہ ہے
سوال
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ مذہبی طبقہ ( یعنی علماء و مشائخ ) کا سیاست سے کیا کام ہے ان کو سیاست نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنی مَسنَد سنبھالنی چاہیے_____
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا علماء و مشائخ کو سیاست کرنی چاہیے یا نہیں.......
نیز کیا قرآن و حدیث سے مذہبی لوگوں کے لیے سیاست کرنے کا جواز ثابت ہے ؟
الجواب بعون اللّٰه تعالى و توفيقه
مزہبی طبقہ کے لیے سیاست کرنا جائز
ہے اس کا جواز قرآن و حدیث کی متعدد نصوص سے ثابت ہے
ہم مختصرا اس پر دو تین دلیلیں پیش کرتے ہیں
حدیث مبارکہ سے اس کا ثبوت ملاحظہ فرمائیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَه نَبِيٌّ وَ إِنَّه لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ قَالُوْا فَمَا تَأمُرُنَا قَالَ فُوْا بِبَيْعَةِ الْاَوَّلِ فَالْاَوَّل اَعْطُوْهُمْ حَقَّهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
ترجمہ
بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السَّلام ان کی سیاست کرتے تھے جب بھی کوئی نبی علیہ السَّلام وصال فرما جاتا تو اس کا خلیفہ دوسرا نبی ہو جاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور عنقریب بہت خلفاء ہوں گے ، صحابہ کرام رضوان اللّٰه تعالٰی عليهم اجمعين نے پوچھا آپ ہمیں ان خلفاء کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلَّی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے کی بیعت پوری کرو پھر پہلے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حقوق کو ادا کرو پس اللّٰہ تعالٰی ان سے ان کی رعایا ( ما تحت مخلوق ) کے متعلق پوچھ گچھ فرمائے گا ،
حوالہ جات
📚 صحیح بخاری
📗 جلد نمبر 4
📖 صفحہ نمبر 449 / 450
📄 حدیث نمبر 3453
📇 مطبوعہ دار التاصيل جمهوريہ مصر العربية
📚 صحيح مسلم
📗 جلد نمبر 5
📖 صفحہ نمبر 166 / 167
📄 حدیث نمبر 1890
📇 مطبوعہ دار التاصيل جمہوریہ مصر العربية
📚 سنن ابن ماجه
📗 جلد نمبر 3
📖 صفحہ نمبر 400
📑 حدیث نمبر 2871
📇 دار الكتب العلمية بيروت لبنان
📚 تحفة الاشراف ( خ - م - ق)
📄 حديث نمبر 13417
اس حدیث کو امام احمد بن حنبل رحمة اللّٰه تعالٰى عليه نے اپنی مُسند میں صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا ہے
دیکھیے
📚 مسند الامام احمد بن حنبل
📗 جلد نمبر 13
📖 صفحہ نمبر 340
📄 حدیث نمبر 7960
📇 مطبوعہ موسسة الرسالة بيروت لبنان
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمة اللّٰه تعالٰى عليه نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں دو مقامات پر صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا ہے
دیکھیے
📚الاحسان في تقريب صحيح ابن حبان
📗 جلد نمبر 10
📖 صفحہ نمبر 418 / 419
📄 حدیث نمبر 4555
📗 جلد نمبر 14
📖 صفحہ نمبر 142
📄 حدیث نمبر 6249
📇 مؤسسة الرسالة بيروت لبنان
📚 شرح السنة للبغوي
📗 جلد نمبر 10
📖 صفحہ نمبر 56
📄 حدیث نمبر 2464
📇 مطبوعہ المكتب الإسلامي دمشق و بيروت
📚 مسند إمام اسحاق بن راهويه
📄 حدیث نمبر 222
📚 السنن الكبرى البيهقي
📗 جلد نمبر 8
📖 صفحہ نمبر 144
📇 مطبوعہ مجلس دائرة المعارف العثمانية حيدر آباد دكن ہندوستان
سن طباعت سن ہجری 1354
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السَّلام سیاست کرتے تھے جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ بن کر سیاست کرتا
اب دیکھیے ساری مخلوق بالخصوص انسانوں میں سب سے افضل انبیاء کرام علیہم السَّلام ہیں جب وہ سیاست کرسکتے ہیں تو جن کو حضور خاتَمَ النَبِیِّین صلَّی اللّٰہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہم السَّلام کا وارث قرار دیا ہے وہ علماء کرام کیوں سیاست نہیں کرسکتے ؟
دورِ حاضر میں اکثر جاہل لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جی علماء و مشائخ کا سیاست سے کیا کام ہے ان کو تو صرف اپنی مَسنَد سنبھالنی چاہیے یعنی علماء و مشائخ کو مساجد ، مدارس اور خانقاہوں میں بیٹھے رہنا چاہیے ،
میں کہتا ہوں کہ علماء کرام کو سیاست کرنے کےلیےجاہل لوگوں سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ان کےلیے حضور رحمت کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا سند و اجازت اور سرٹیفکیٹ کافی ہے
ہمارے ہاں سیاست ایک مکروہ لفظ اور بد دیانتی کا شعبہ تصور کیا جاتا ہے جبکہ یہ تصور درست نہیں ۔ کتب لغت میں سیاست کا معنی ہے "دیکھ بھال کرنے یا انتظام کرنے کے ہیں"، اس معنی میں ہم میں سے ہر شخص سیاسی ہے اور یہ ہم پر شریعت کا تقاضا بھی ہے جو لوگ ہمارے ما تحت آتے ہیں ان کی فلاح و بہبود کا انتظام اور عمدہ دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے جس کے متعلق ہم سے سوال بھی ہوگا یہی معاملہ جب ملک و ریاست سے متعلق ہوتا ہے تو ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے منتخب شدہ حکمران بد دیانتی کی سیاست کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شعبہ ایسا بدنام ہوا کہ کرپشن لوٹ مار ظلم و زیادتی کا دوسرا نام سیاست پڑگیا۔۔۔۔
ان حالات میں مذہبی تنظیموں کی سربراہی کرتے ہوئے علماء و مشائخ پر لازم ہے کہ انبیاء کرام علیہم السَّلام کی سنت کو زندہ کریں، شریعت کی منشاء کے مطابق سیاست میں حصہ لیں اور اسکی خرابیوں کے خلاف عملی جہاد کریں کیونکہ وہی انبیاء کے وارث ہیں۔
جیسا کہ
ایک طویل حدیث ہے جس میں
اس طرح کے الفاظ آئے ہیں
اِنَّ العُلماء ورثة الأنبياء
ترجمہ بے شک علماء کرام انبیاء علیہم السَّلام کے وارث ہیں ،
اس حدیث کو سنن ابن ماجہ کے محقق محمود محمد محمود حسن نصّار نے صحیح قرار دیا ہے
دیکھے حوالہ سنن ابن ماجہ جلد اول صفحہ نمبر 137 /138
حدیث نمبر 223
مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت لبنان
نیز اس حدیث کے متعلق عرب محقق الشیخ شعیب الارناؤوط نے کہا حسن بشواهده
دیکھیے مسند إمام احمد بن حنبل حدیث نمبر 21715 مطبوعہ مؤسسة الرسالة بيروت لبنان
كما قال المحقق ذكوان اسماعيل غبيس انظر فتح الودود بشرح سنن ابي داود الجزء الخامس رقم الصفحة 426 اول كتاب العلم باب الحث على طلب العلم رقم الحديث 3610
طبع جائزة دبي الدولية للقرآن الكريم ،
بعض لوگ کہتے ہیں علماء و مشائخ کو اپنی مسند سنبھالنی چاہئے کرسیوں کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے۔
ان بھائیوں سے عرض ہے مسئلہ کرسی کے پیچھے بھاگ دوڑ کا نہیں بلکہ امانت و خیانت، اہل و نااہل کا ہے۔۔۔ جب کرپٹ لوگ حکمران بن جائیں اور ملک کو برباد کررہے ہوں تو دیندار لوگوں کا آگے آنا ضروری ہوجاتا ہے اور اسکے لئے منصب کا طلب کرنا قطعا معیوب نہیں۔ حضرت یوسف علیہ السَّلام نے بادشاہِ مصر سے فرمایا تھا:
قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ (سورة يوسف - 55)
یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بے شک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں:
’’جب نااہل سلطان یا حاکم بن کر ملک کو برباد کررہے ہوں یا برباد کرنا چاہتے ہوں تو دین و ملک کی خدمت کے لئے حکومت چاہنا حاصل کرنا ضروری ہے۔‘‘
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 5، کتاب الامارۃ والقضاء، حدیث 582)
یہاں سے ان لوگوں کے اشکال کا جواب بھی مل گیا جو کہتے ہیں مذہب اور سیاست علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو یا تو سیاست کے مفہوم سے نا آشنا ہیں یا اسلام کی آفاقیت سے بے خبر ہیں، درحقیقت اسلام ہی وہ دین ہے جس نے سچی سیاست کو فروغ دیا اور اسکے لئے عملی نمونہ بھی پیش کیا، مذکورہ حدیث میں صراحۃ بیان ہے کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کیا کرتے تھے قابلِ غور پہلو ہے کہ کائنات میں انبیاء کرام سے زیادہ مذہبی تشخص کسی کا نہیں ہوتا، جب ایسے پاکیزہ مذہبی لوگ باقاعدہ سیاست کرتے اور بنی اسرائیل کی مملکت کا انتظام چلاتے تو آج مذہب و سیاست کو علیحدہ شے تصور کرنا فہمِ قائل کی سخت غلطی ہے، سچ تو یہ ہے جہاں اسلام کا نور آتا ہے وہیں اپنے ساتھ پاکیزہ سیاست کا شعور بھی لاتا ہے اور جہاں سیاست ہے وہاں اسلام کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے گویا دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
بیان کی گئی حدیثِ مبارکہ کا اگلا حصہ بغور پڑھیں حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
كُلما هلك نبي خلفهُ نبيٌّ، وإنهُ لا نبيَّ بعدي:
یعنی جب بنی اسرائیل میں سے کسی نبی کا وصال ہوجاتا تو اسکے بعد دوسرا نبی ان کی سیاست سنبھال لیتا اور بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اس سے معلوم ہوا سیاسی امور انہیں کے سپرد ہونے چاہییں جو اہل ہوں اور اللّٰہ کے نبی سے بڑھ کر کوئی اہل نہیں ہوتا، یہ بنی اسرائیل کا معاملہ تھا اور اب حضور خاتم النبین ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اس لیے اب سیاست کرنا ان جاہلوں ظالموں ناموس رسالت و ختم نبوت کے غداروں کا کام نہیں بلکہ صرف اور صرف ان لوگوں کا حق ہے جو انبیاء علیہم السَّلام کے وارث ہیں اور وہ علماء کرام اور مشائخ عظام ہیں اسلامی نقطہ نظر سے اب خلافت یا ملوکیت ہوگی جسے شریعت کی مضبوط گرہوں سے باندھے رکھنا ضروری ہے اور اس میں سیدھا سا اصول ہماری شریعت نے عطا کیا ہے اگر حاکمِ وقت مطابقِ شرع فیصلہ دے تو مانا جائے خلافِ شرع امور میں اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی رہی مغربی جمہوریت تو اسلام اس کا قائل ہی نہیں۔
الحمد لِلّٰہ تحریک لبیک سمیت متعدد مذہبی تنظیمات نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے لئے جدوجہد بھی جاری ہے اسکے لئے کی جانے والی تمام کاوشیں حسنات میں شمار ہوںگی کیونکہ منصب کے حصول سے ان کا مقصود شریعت کی بالادستی اور دین کو تخت پر لانا ہے ہے۔۔۔۔ ضرورۃ الامر یہ ہے کہ آپسی اختلافات کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے اسلامی سیاست کو فروغ دیں اور ایک و نیک مقصد کے لئے اجتماعی کوشش کریں ان شاء اللّٰہ الرحمن رحمتِ الہی آپ کا ساتھ ضرور دے گی ،،
Tags
Urdu Blogs