Reason of TLP's Fame!! || TLP

الزام چھوڑو،کام کرو
اس مادی دور میں لوگ خریدے جاتے ہیں،انہیں جبہ و دستار سے مزین کیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں پر ان سے فتوے حاصل کیے جاتے ہیں۔اگر حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان فتووں کی زد میں خود فتویٰ دینے والے نام نہاد مفتیان آتے ہیں۔لیکن جس کو حقیقت سے سروکار ہی نہیں ہے اسے کیا خاک حقائق بتائے جائیں۔جو لکیر کا فقیر ہو اسے کیا دلیل دی جائے۔دلیل اہلِ عقل کے لئے ہوتی ہے۔علمی گفتگو ان کے لئے ہوتی ہے جو علم کی روشنی میں چلنا چاہتے ہیں۔جنہیں کسی خاص شخصیت کے ساتھ عقیدتِ محض ہو ان پر نہ کوئی دلیل کارگر ہوتی ہے اور نہ ہی علمی گفتگو اثر کرتی ہے۔
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں مسلمانوں کی ذلت و نکبت کا دور ہے۔ہر طرف مایوسیوں کے بادل ہیں لیکن ایسے حالات سے نکلنے کے لئے پاکستان میں ایک امید کی کرن بھی موجود ہے۔ پاکستان کے عوام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صورت میں ایک ایسی امید افزا شمعِ فروزاں سے نوازا ہے جس کی مثال عالم اسلام میں نہیں ملتی۔اس جماعت کا اصل مقصد اسلام کا نفاذ ہے اور اسلام کے نفاذ کے ذریعے ہی باطل کا پنجہ توڑا جا سکتا ہے۔اب اس جماعت سے سب سے بڑا خطرہ اس باطل کے نظام کو ہے جو مسلمانوں کو اپنا مطیع بن کر رہنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔تحریک لبیک پاکستان کا اصل دشمن کفر ہے لیکن پاکستان میں کفر کے نمائندے نام نہاد مسلمانوں کو بھی تحریک لبیک سے چِڑ ہے۔یہ لوگ کفر کے آلہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔دانستہ ہو یا نادانستہ لیکن یہ ایک بہت بڑا جرم ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی امیدوں کی واحد کرن تحریک لبیک پاکستان کے خلاف من گھڑت الزامات کا بازار گرم کیا جائے اور لوگوں کو اس اسلام کی محافظ جماعت سے بدظن کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر کسی کو تحریک لبیک پاکستان سے کوئی مسلہ ہے تو وہ خود نکلے میدان میں۔اگر لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے نعرے سے کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے تو وہ اللّٰہ سے عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم مانگے۔اگر کسی کو تاجدارِ ختم نبوت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا نعرہ لگانے سے درد ہوتا ہے تو وہ اپنے عقیدے کی اصلاح کرے۔اگر کسی کو زندگی میں ایک بار بھی من سب نبیا فاقتلوہ کی حدیث مبارکہ پڑھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی تو وہ تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے قائدین پر فتویٰ بازی کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکے۔اگر کسی کو سپریم کورٹ میں تحریک لبیک یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے معاملے میں کھلی فتح کھٹکنے لگی ہے تو وہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی اس نصیحت پر عمل کرے کہ

ذرۂ عشقِ نبی از حق طلب
سوزِ صدیق و علی از حق طلب

عزت تو صرف دینِ مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ غیر مشروط طور پر وابستہ ہونے میں ہے۔اگر کسی کا مقصد چند ٹکوں سے ہے تو وہ چند فتوے دے کر جیبیں تو گرم کر لے گا لیکن عزت نصیب نہیں ہو گی۔اگر کوئی کار، کوٹھیوں اور بنگلوں کا شیدا ہے تو وہ فرنگ سے امپورٹڈ دین بیان کر کے اپنے آقاؤں سے سامانِ تعیش تو حاصل کر لے گا لیکن مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہمیشہ وہ حافظ سعد حسین رضوی ہی رہیں گے جنہوں نے آٹھ ماہ کی قید تو گوارا کر لی لیکن ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے وفائی گوارا نہیں کی۔اگر کوئی شہرت چاہتا ہے تو وہ ایک آدھ چینل چلا کر شہرت حاصل کرنے کی کوشش بھی کر لے گا لیکن قوم کے دلوں میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔اگر کسی کو ناموری عزیز ہے تو وہ زر خرید لوگوں سے اپنی جھوٹی کرامتیں کہلوا کر اپنی ہوسِ مقبولیت پانے کی کوشش کرے گا لیکن قوم اسے جوتے کی نوک پر رکھے گی۔
آج یہ نام نہاد مذہبی پنڈت چاہتے ہیں کہ ہمارا کام صرف حلوہ خوری ہو بس۔اگر جہاد کا نام لیا جائے تو ان کے رنگ زرد پڑ جاتے ہیں۔اگر ناموسِ رسالت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے تحفظ کے لئے میدان میں نکلنا پڑ جائے تو یہ حجروں میں بند ہو جاتے ہیں۔اگر کوئی یزیدی حکومت دین پر حملہ کر دے تو یہ اس سے صلح نامہ طے کر لیتے ہیں۔اگر فرانسیسی ملعون صدر سرورِ کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی توہین کر دے تو یہ اس کے لئے دعائے ہدایت شروع کر دیتے ہیں۔اگر عاشقانِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہندوستان میں ایک گستاخہ کے حمایتی کو واصل جہنم کر دیں تو یہ بلبلا اٹھتے ہیں کہ جی ہم تو قانون کو ہاتھ میں لینے کے قائل نہیں۔اوئے حرام کے تخمو! کونسا قانون اور کیسا قانون؟جب سرورِ کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرما دیا کہ من سب نبیا فاقتلوہ تو پھر وہ کونسا دنیا کا قانون ہے جو تمہارے نزدیک معاذاللہ اس قانون سے بالاتر ہے۔اپنی بیغیرتی اور بزدلی کو چھپانے کے لئے تو تم حدیثِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ہوتے ہوئے بھی کسی اور قانون کو ترجیح دے رہے ہو اور فتوے لبیک پر!واہ اے شیخ تیری منافقت!۔
اگر خود کام نہیں کرنا چاہتے تو اندر بیٹھ کر مسواک کے فضائل بیان کرتے رہو۔اگر طاغوت سے ٹکرانے کی طاقت نہیں ہے تو آدابِ طعام پر رسالے لکھتے رہو۔اگر دینِ مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے نفاذ کے لئے جد و جہد کرنا تمہارے نصیب میں نہیں ہے تو سموسوں کے نقصانات پر ورق کالے کرتے پھرو۔اگر دینی غیرت نہیں ہے تو خاموشی سے اندر دبکے رہو تمہیں کس نے چھیڑا ہے! لیکن خود بھی کام نہ کرنا اور کام کرنے والوں کے راستے میں بھی روڑے اٹکانا انتہائی بیہودہ اور گھٹیا حرکت ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post