History of Tehreek Labbaik Pakistan ||TLP

تحریک لبیک کی 5 سالہ سیاست
"تحریک لبیک پاکستان" (26 جولائی 2017) کو بطورِ سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں درج ہوئی،
لیکن تحریک لبیک پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے محرکات میں سب سے بڑی وجہ تب شروع ہوئی،
جب /2009/ میں ایک آسیہ نامی ملعونہ نے "نبی معظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم" کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کی غلیظ جسارت کی،
اس گستاخی پر باقاعدہ مقدمے کا اندراج ہوا،
اور ضلعی عدالت سے لاہور ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پنہچا،

جب یہ گستاخی کا معاملہ طول پکڑ کر شعبہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے "عوام الناس" تک پہنچا تو اسی دوارن پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ /سلمان تاثیر قادیانی/ جو اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا گورنر تھا نے (قوانین شریعہ) اور "نبی معظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم" کے فرامین بارے بکواس کرنے کی کوشش کی،

اسی بکواس کے رد عمل اور "غیرت ایمانی" کے تحت ایک مرد قلندر, پیکر شجاعت نوجوان ممتاز قادری جو محمکہ پولیس میں بطور سپاہی اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا کے عشق نے جوش مارا،
اس واقعہ کے بعد ممتاز قادری نے خود کہہ کر یا حکم ربی اس کی ڈیوٹی سلمان تاثیر کے حفاظتی دستے میں لگ گئی،۔۔۔!!!
موقع کے متلاشی ممتاز قادری نے ایک تقریب کے بعد نکلتے ہوۓ سلمان تاثیر لعین کو نکلتے ہوئے (27 گولیاں) مار کر جہنم واصل کیا،
اور خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا،

"غازی ممتاز قادری" کا مقدمہ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی چلتا رہا،
لیکن زردای نے اس مقدمے کو ختم نا کروایا،
اور چپ چاپ اپنی حکومت کی معیاد پوری کی،
اس کے بعد 2013 میں /نواز لیگ/ برسرِ اقتدار آئی،
/ن لیگ/ نے جہاں بہت سی بد عنوانیاں اور بے ضابطگیاں کی وہیں اس نے "ممتاز قادری" کے مقدمے کو منطقی انجام تک پنہچانے اور اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کی،

29 فروری 2016 کو "غازی ممتاز قادری" کو فیصلہ سنا کر تختہ دار پر چڑھا دیا گیا،

اناللہ وانا الیہ راجعون
"ممتاز قادری" شہید کی سزا اور شہادت سے پہلے ہی تحریک لبیک غازی ممتاز قادری کی رہائی کے لیے میدان عمل میں سر گرم ہوگئی تھی،
جس میں امیرالمجاہدین "علامہ خادم حسین رضوی" سرِ فہرست تھے،
لیکن مغرب زدہ غلاموں اور دجالی عدالتوں نے "غازی ممتاز قادری رحمتہ اللہ علیہ" کے مخالف فیصلہ سنا کر اپنے آقاؤں کی خوشنودی سود زدہ قرضوں کی شکل میں حاصل کی،

"غازی ممتاز قادری شہید رحمتہ اللہ علیہ" کے جنازے میں ایک جمِ غفیر تھا،
جس میں ہر مکتبہ فکر کے خاص و عام احباب شامل تھے۔ اس جنازے کے بعد علمائے حق کی باہمی مشاورت سے "الشاہ امام احمد نورانی رحمتہ اللہ تعالی علیہ" کے بعد ایک خلا جو 3, 4 دہائیوں سے چلتا آ رہا تھا اس کو پر کرنے کی تجویز زیرِ بحث آئی،

اس میں کوئی شک نہیں کے امام شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب کمال, صاحب بصیرت و بصارت شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ کمال درجے کے سیاستدان بھی ہوئے،
"امام شاہ احمد نورانی صدیقی" کی ایوانوں تک رسائی میں "اللہ تعالی" کی نصرت شامل تھی جس کی بدولت آئین میں قادیانیت کو کافر قرار دیا گیا،اور اسلامی دفعات کو شامل کیا گیا،

لیکن،۔۔۔۔۔۔۔!!! امام شاہ احمد نورانی کا ایوان تک پنہچے کا تجربہ قادیانیوں اور مغرب کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا،
اس کے بعد سے قادیانی اور مغربی غلام محتاط ہو گئے،
اور ایسے عالم با عمل, صاحب کردار, پیکر "عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم" جیسی شخصیت کو ایوانوں تک پہنچنے سے روکنا بھی ان کے مقاصد میں شامل ہو گیا،

"امام شاہ احمد نورانی" کا آئین میں اسلامی دفعات کا نافذ کروانا ایک ایسا عمل تھا!
جس کی ضرب /اہل قادیان و اہل مغرب/ آج تک محسوس کر رہے ہیں،

جبکہ آج تک مختلف علماء ایوانواں میں موجود ہیں،
لیکن وہ ایسا تاریخی و اسلامی قردار نا پیش کر پا رہے،ہیں
جسے اہل مغرب کو کوئی خطرہ محسوس ہو، 

اس لیے وہ ایسے علماء کو ایوان میں لا کر بھولی بھالی عوام کو اسلامی ریاست کا تاثر دیتے ہیں۔ اور "امام الشاہ احمد نورانی صدیقی" کے افکار کا خلا مسلسل چلتا رہا،

"غازی ممتاز قادری شہید" (رحمتہ اللہ علیہ) کی شہادت اور جوانمردی کے انعام کی صورت میں 'اللہ تعالی' نے اس قوم کو امیر المجاہدین کی صورت میں رواں صدی کا "مجدّد" عطا فرمایا،
بلکہ ان کو امت پر عیاں فرمایا، اور ان کی "دلیرانہ گفتگو" ان کی فکر ان کی تبلیغ, ان کی تعلیمات سے آنے والے /100 سال/ تک ہمارے دلوں میں جو "عشق محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم" کے جذبات سرد ہو رہے تھے،
ان کو ایک نئی جلا بخشی، اور ایک چنگاری کا کام کیا،
جو ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہو گی، ان شاء اللہ

"غازی ممتاز قادری شہید" /رحمتہ اللہ علیہ/ کی شہادت کے بعد جو ایک چنگاری جلی تھی اس کو آگ بننے کا سبب /نواز لیگ/ کی حکومت میں ختمِ نبوت کے حلف نامے کی ترمیم بنی،
جس میں تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں،
جن میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں،
لیکن کہتے ہیں کے ہر فرعون کے گھر ایک موسٰی کی پرورش ہوتی ہے،
اور اللہ چاہے تو بدکاروں سے بھی حق بیان کروا دیتا ہے،
اسی طرح "اللہ پاک" نے ایک اسمبلی ممبر کے ذریعے اس سازش سے راز فاش کروا دیا،،۔۔۔۔۔!!!!

اس کے بعد پھر "فیض آباد" میں تحریک لبیک نے پہلا دھرنا دیا،
جس پر حکومت کی جانب سے بدترین شیلنگ ہوئی،
جس کے نتیجے میں ہمارے تقریباً آٹھ جوان شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے،
ہمارے قائدین اپنے مؤقف اور جگہ سے ایک انچ بھی نا ہلے اور اللہ پاک نے فتح سے ہمکنار فرمایا۔
اس کے اوپر راجہ /ظفر الحق/ کی رپورٹ آئی،
جس میں کردار خاص /حامد خان, شفقت محمود/ اور چند مزید وزرا زامل تھے،
بعد میں /حامد خان/ سے استعفی بھی لے لیا گیا،
اور اس شق میں کی گئی ترمیم کو واپس اصل شکل میں بحال کیا گیا۔

اسی طرح کے محرکات کی بنیاد پر تحریک لبیک "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم" کو سیاسی جماعت کے طور پر اور "امام الشاہ احمد نورانی صدیقی" /رحمتہ اللہ علیہ/ کے افکاف کے خلا کو پر کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں 26 جولائی 2017 کو اندراج کروانے گئے،
الیکشن کمیشن کے اسلامی نام کے اعتراض پر تحریک کے نام میں معمولی سی تبدیلی کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے نام سے اندراج کروایا گیا،
اور انتخابی نشان خنجر کی مانگ کے بدلے کرین دیا گیا،

2018 میں "تحریک لبیک پاکستان" نے باقاعدہ الیکش میں حصہ لیا،
اس بار پھر اللہ پاک کی نصرت سے صوبہ سندھ کی دو نشستوں سے تحریک کے ایم پی اے منتخب ہوئے،
اور "امام الشاہ احمد نورانی صدیقی" کے تقریبا 50 سال بعد وہی آواز, وہی لہجہ, وہی فکر, وہی مقصد کے ساتھ "مفتی قاسم فخری" صاحب کی آواز سندھ کے ایوان میں گونجی!
وہی سندھی جہاں سے محمد بن قاسم اسلامی لشکر کے ساتھ سر زمین ہندوستان پر اسلام لے کر اترا،
جیسے ہی یہ اسلام کا سپوت سے ایوان میں گرجا تو تمام دجالی طاقتیں ایک بار پھر دہل کر رہ گئیں،
ان کی سماعتوں پر "اقبال" کے اشعار ہتھوڑوں کی طرح برسنھے لگے،

نکل کر صحراؤں سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا،

سنا ہے قدسیوں سے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا،،
"مفتی قاسم فخری صاحب" نے سندھ اسمبلی میں اسلامی و عوامی آواز کو بلند کیا،
اود عرصہ دراز بعد سندھ اسمبلی میں جمعہ اور نماز کے اوقات می وقفہ ہونے لگا،
پھر یہ قاسم فخری اور تحریک لبیک ان مغرب زدہ دجال کے پیرو کاروں کے چھبنے لگے!
وہ لوگ پھر سےامام الشاہ احمد نورانی صدیقی" کی فکر, ان کی گونج محسوس کرنے لگے،
اور سر جوڑ کر بیٹھ گئے،
جہاں ہزاروں کے فرق سے جیت نظر آنے لگی،
وہاں لبیک کو صرف پینسٹھ ووٹوں سے ہروایا گیا،
اور دوبارہ گنتی کی درخواست بھی رد کر دی گئی۔ 

اس کے بعد آسیہ ملعونہ کو ملک سے فرار کروانے کے لیے "تحریک لبیک" کے ذمہ داران, قائدین, علماء کو غیر قانونی حبسِ بجا میں رکھا گیا 
جھوٹے مقدمے بنائے گئے 
نظر بند کیا گیا،
اور مغربی میڈیا پر بیٹھ کر اپنی کھوکھلی فتح کے شادیانے بجائے گئے 
اور اپنی غلامی اور وفاداری کے گیت گائے گئے،
اس کے بعد ہالینڈ کے بیغرت ورلڈ, فرانس کے کتے مکروہ ( میکرون ) کی گستاخیوں پر تحریک لبیک نے بھرپور احتجاج کیا،
اور فرانس کے سفیر کو ملک بدر کربے کی ملک گیر تحریک چلائی،
اس معاملے میں سفیر کی ملک بدری کی بجائے /عمرانی شیطانی/ حکومت نے "تحریک لبیک" پر تشدد اور بربریت کی انتہا کر دی،
اس کے بعد ایک معاہدہ طے پایا۔ نومبر میں "امیرالمجاہدین امام العاشقی بابا جی "خادم حسین رضوی" (رحمتہ اللہ علیہ) اپنے مقصد کو, تحریک کو اپنے ساتھیوں کے حوالہ کرکے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرکے کروڑوں سوگوار چھوڑ کر چلے گئے۔
"بابا جی" "امیر المجاہدین" رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے پر ایک محدود اندازے کے مطابق 1.5 کروڑ افراد نے اشکبار آنکھوں سے شرکت فرمائی۔

جنازے کے بعد تحریک کے نئے امیر "مجلس شورٰی" کے متفقہ فیصلے سے "علامہ حافظ محمدسعدحسین رضوی" جو بابا جی امیر المجاہدین کے بڑے صاحبزادے ہیں،
مقرر کیا گیا،
فروری میں حکومتی معاہدے کے مطابق تحریک نے قبل از اختتام معاہدہ مدت حکام کو یاد ہانی کروائی 
حکومت کی جانب سے دوبارہ معاہدے کے لیے وقت مانگا گیا۔ اس کے بعد امیرِمحترم علامہ حافظ سعد حسین رضوی کو غیر قانونی و آئینی گرفتار کیا گیا،
اور تحریک لبیک کے قائدین جنہوں نے مقررہ وقت پر معاہدے کی پاسدری نا ہونے اور امیر محترم کی گرفتاری پر ملک گیر دھرنے کا اعلان کیا،
حکومت شیطانی کی جانب سے اس بار پوری قوت سے تحریک کو دبانے اور منتشر کرنے کے لیے /سیاسی, سماجی, ظلم و بربریت , چادر چار دیواری/ کا تقدس پامال اور ہر حربہ آزمایا گیا۔
امیرِمحترم کو سات ماہ حبس بجا میں غیر قانونی طور پر رکھ کر دباؤ ڈالا گیا 
40 کے قریب لوگوں کو شہید اور سینکڑوں کارکنان کو زخمی کیا گیا لیکن تحریک کے قائدین, عمائدین اور کارکنان اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہیں۔

گو کہ 2022 الیکشن کے 20 سیٹوں کے الیکشن پر بدترین دھاندلی کو بےنقاب کرنے کا سہرا بھی "تحریک" کے سر جاتا ہے!
لیکن اس کے باوجود یہ دجالی نظام "تحریک لبیک" کے راستے میں ہر رکاوٹ کھڑی کرنے میں پیش پیش ہے،
ان کی تمام مکاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی،

کیونکہ سب سے بہترین تدبیر میرے رب کی ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کے تحریک کو استقامت, جرات اور حوصلہ عطا فرمائے،

تاکہ اپنے مقصد "نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم" اور دین کو تخت پر لانے کے لیے کار بند رہے،
اور اپنے مقصد کو ہمیشہ اولین ترجیح میں رکھے،

لاللہ تبارک و تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ شامل حال رہے،
قائدین, عمائدین, کارکنان کے جذبے سلامت،
اور جوان رکھے،

(آمین یا رب العلمین)

1 Comments

  1. Its been 3 years I am worker of TLP, and still

    ReplyDelete
Previous Post Next Post