Last Hope TLP

انسانیت،اسلامی نظام اور تحریک لبیک پاکستان

جب شریعت نافذ ہو تو پورے کا پورا معاشرہ جنت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔کسی کو کسی کا حق مارنے کی جرات نہیں ہوتی۔کوئی کسی کے ساتھ ظلم کر کے قانون سے بچ نہیں سکتا۔دینِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تو زندگی کے ہر گوشے میں اور حیاتِ انسانی کے ہر معاملے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔یہ وہ نظام ہے جس میں برکت ہی برکت ہے۔اگر کوئی ملک شریعت کی روشنی میں چل رہا ہو تو اس میں بسنے والے عوام پر سکون زندگی گزارتے ہیں۔ایسے ماحول میں نہ تو عوام کو حکمرانوں سے کوئی گلہ ہوتا ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو کسی قسم کی اندرونی بغاوت کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ جب ملک کے عوام مطمئن ہوں گے تو بغاوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسلامی نظام کے علاوہ دنیا کا کوئی نظام انسانیت کے مسائل حل کرنا تو دور کی بات ہے،سمجھ بھی نہیں سکتا۔جب کوئی نظام انسان کی فطرت اور انسانی زندگی کے مختلف تقاضوں کا ادراک ہی نہیں رکھتا تو وہ کس طرح انسانیت کو فلاح و بہبود کے راستے پر ڈال سکتا ہے۔جس نظام میں اتنا شعور نہیں کہ وہ انسانیت کے رتبۂ بلند کو پہچان سکے کیا وہ انسانوں کے مسائل حل کر سکتا ہے۔ نہیں کبھی نہیں!


انسانی فطرت کا مکمل علم اس ذات باری تعالٰی کو ہے جس نے اس مشتِ خاک کو پیدا فرمایا۔وہی مالک المک جانتا ہے کہ انسان کی سرشت میں کیا رکھا ہے اور اس کے طبعی میلانات کیا ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی کی ذاتِ علیم و خبیر ہی جانتی ہے کہ انسانیت کی رغبت و حقارت کے زاویے کونسے ہیں اور یہ اولادِ آدم کیسے ماحول میں پنپ سکتی ہے۔ اللّٰہ جل جلالہ کی ذات ہی جانتی ہے کہ انسان کی صورت میں جس اعلیٰ مخلوق کو اس نے تخلیق فرمایا ہے اس کی بڑھوتری اور بقا کے لئے کون کونسے عوامل ضروری ہیں۔اس لئے یہ انتہائی ضروری امر ہے کہ اسی مالکِ حقیقی کے کلام قرآن مجید کے مطابق ریاست کا مکمل انتظام و انصرام چلایا جائے جس نے انسان کو تخلیق فرمایا۔

جہاں تک مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کا تعلق ہے تو اسلامی نظام کے بغیر مسلمانوں کے لئے تو کوئی چارۂ کار ہی نہیں ہے۔یوں سمجھ لیجیے کہ مسلم معاشرہ اگر ایک جسم ہے تو اسلامی نظام اس میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔اسلامی نظام کے بغیر کوئی بھی مسلمان معاشرہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔کامیابی تو درکنار ایسا معاشرہ شکست و ریخت کا شکار ہونے لگتا ہے۔لیکن یہاں ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ اسلامی نظام تمام انسانیت کے لئے فلاح کا ضامن ہے۔اس دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے بھی ہر طرح کی آسائش اور امن و امان میسر ہوتا ہے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن وہ ایک ایسے خطۂ زمین پر رہائش پذیر ہیں جہاں شریعتِ مصطفوی نافذ ہے۔اکثر لبرل اور اسلام دشمن طبقہ علماء پر یہ الزام لگاتا ہے کہ یہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہیں چاہتے لیکن درحقیقت اسلام ہی وہ نظام دیتا ہے کہ جس کے ماتحت رہتے ہوئے کسی غیر مسلم کو کسی احتیاج و تنگدستی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔اسلام ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے چاہے وہ شہری مسلمان ہو یا غیر مسلم۔یہودی خود کہتے ہیں کہ اندلس میں مسلمانوں کا دورِ حکومت ہمارے لئے ہر قسم کی آزادی اور امن و سلامتی کا دور تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب اندلس سے اسلامی اقتدار کا سورج غروب ہوا تو ملکہ ازابیلا جیسی متعصب عیسائی خاتون نے اندلس کی سرزمین پر یہودیوں کے لئے عرصۂ حیات تنگ کر دیا نتیجتاً انہیں بھاگ مختلف اسلامی ممالک میں پناہ لینا پڑی۔آج عیسائی دنیا خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن کہتی ہے لیکن درحقیقت یہ وہی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں جنہوں نے افغانستان میں انسانیت کا قتلِ عام کیا، عراق میں ان گنت لوگوں کو بموں کا نشانہ بنایا اور بوسنیا اور چیچنیا میں مسلمان ہونا جرم بنا دیا گیا۔

کاش کہ پاکستانی مسلمان آنکھیں کھول لیں۔آج قدرت نے انہیں تحریک لبیک پاکستان کی صورت میں ایک ایسی جماعت دی ہے جو پاکستان کو ان اصولوں پر چلانے کے لئے تگ و دو کر رہی ہے جن پر چل کر دورِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم میں، خلفائے راشدین کے دور میں اور بعد کے آنے والے مختلف ادوار میں توحید کے پرستاروں نے انسانیت کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائی۔یہ جماعت اس نظام کی طرف پاکستان کو لے کر جانا چاہتی ہے جس نظام نے انسانیت کو قیصر و کسریٰ جیسے انسان دشمن درندوں سے چھٹکارا دلایا۔اس لئے آپ کے قیمتی ووٹ کی حقدار صرف اور صرف تحریک لبیک پاکستان ہے۔

قوم کی آخری امید لبیک

از قلم محمد عاطف شان

Post a Comment

Previous Post Next Post