اے میرے وطن ہم تیرے وفادار نہیں ہیں
کیا یہ منافقت نہیں ہے؟؟؟
جس اسلام نے اقلیتوں کو حقوق دیے ۔۔۔ صد افسوس آج اس اسلام کے ماننے والوں کو اسلامی ریاست میں برابر کے حقوق حاصل نہیں
وزیر برائے مذہبی امور نے کرسمس کے موقع پہ اپنے یہودی آقاٶں کو خوش کرنے کےلیے پیغام جاری کیا کہ مذہبی امور کی وزارت کا مقصد مساجد اور مدارس کی مدد کرنا نہیں ہے ہم بلکل بھی مسلمانوں کی مدد نہ کریں گے۔ ہم اقلیتوں کی امداد گردواروں ،چرچ اور مندروں کے قیام کےلیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔
کمال کی بات ہے نا کہ جس اسلامی ریاست کے قیام کےلیے ہمارے آباٶاجداد نے اپنے خون کا نظرانہ دیا جسکے لیے ہماری ماٶں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹیں آج اس اسلامی ریاست کو سیکولر بنانے کی کوششیں کی جا رہی اس اسلامی ریاست میں اسلام اور مسلمانوں پ زمین تنگ کی جا رہی اس اسلامی ریاست میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں البتہ اقلیتوں کو ہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا نعرہ لگانے پہ نواز گورنمنٹ نے بے گناہ حفاظ کرام اور علماء کو شہید کر دیا، نیازی نے سرعام گولیاں چلوا کر 44 ختم نبوت کے پروانوں کو شہید کیا، اس اسلامی ریاست میں وہ ہندوٶں اور سکھوں کو مکمل مذہبی آزادی کا یقین دلا رہے ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے حق میں کھڑے ہونے والوں کا خون بہایا اور اسلام کی بیٹیوں کی عصمت دری کی، وہ ہندو اور سکھوں کے بچے پیدا کرتے مر گٸیں، تم اپنے آباٶاجداد کے ساتھ بھی غداری پہ اتر آئے انکی روحیں تڑپتی ہونگی کہ جس ریاست کے لیے وہ قربانیاں دیتے رہے آج وہاں سکھوں اور قادیانیوں کے یار حکمران بنے بیٹھے ہیں اور مسلمانوں پہ پابندیاں صادر کر دی گئیں کلمہ حق کہنا جرم بنا دیا گیا سرعام اسلام کا تقدس پامال کرنا اور گستاخوں کو پروٹوکول دینا اسلامی ریاست کا کلچر بن گیا، اور دین فروش علماء محض وزارتوں کے لیے چند ٹکوں کے عوض ان سیکولر حکمرانوں کو تقویت دے رہے۔
فرمان خاتم النبیین حضور صلى الله عليه واله وسلم ہے کہ میری امت میں علماۓ سُو آٸیں گے اور آج قوم دیکھ لے کہ کون کس طرح دین کو نقصان پہنچا رہا ہے اور کیسے قاتل شرابی اور زانی حکمرانوں کے دفاع کےلیے بیانات دیے جا رہے یہ وہی علماء ہیں جو یزید کے ساتھ کھڑے ہو کہ اسکو اسلام کا محافظ کہتے تھے آج انکی نسلیں بھی وہی کر رہی ہیں
یہ کہتے ہیں کہ یہ اسلام کی مدد نہ کریں گے اور اللہ فرماتا ہےکہ اسلام غالب آ کر رہے گا اور بے شک غالب آۓ گا اسلام کو کسی وزارت مذہبی امور کی مدد درکار نہیں، اسلام اپنی پاور خود رکھتا ہے یہ اپنے شیروں کا انتخاب خود کرتا ہے،
سیدنا صدیق اکبر اپنا بنایا ہوا قانون توڑ دیں اور جنگ یمامہ کا اعلان فرما دیں کہ اس گستاخ کو ختم کر دیا جائے تاکہ فتنہ مزید نہ پھیلے پھر تم کس منہ سے کہتے ہو کہ اسلام کی مدد نہ کریں گے !!!
اسلام پکارے تو حسین ابن علی رضی اللہ تعالہ عنہ میدان کربلا کو چل دیں آپ ننھے علی اصغر علیہ السلام سے لے کر علی اکبر علیہ السلام تک سب وار دیں تو تم کون ہوتے ہو اسلام کا ساتھ چھوڑ کر فخر سے بتانے والے شرم تم کو مگر نہ آٸی اہل کوفہ کے پیروکاروں!!!
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے کندھے پہ آٹے کی بوری لاد کر عوام کے گھروں میں پہنچاتے راتوں کو گشت کرتے کہ میری ریاست کے لوگوں کو مساٸل درپیش تو نہیں جہاں مسلمانوں پہ ظلم ہوتا اس علاقے میں اعلان جہاد کرتے اور اس علاقے کو فتح کرتے اسلام کی فتح کا جھنڈا لہراتے مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلاتے اسلام کو نافذ کرتے اور آج یہ دین کے نام نہاد ٹھیکیدار کس منہ سے کہتے ہیں کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کی مددنہ کریں گے۔
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود ۔۔۔ یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
جب ووٹ لینے کی باری آتی ہے تو یہ بڑی بڑی فلیکسیز اور بینرز چھپواتے اور لمبی لمبی تقریریں کرتے کہ ہم پاکستان کی بیٹی عافیہ کو رہا کرواٸیں گے اور پھر منافقین کی طرح سکھوں اور عیساٸیوں کو جا کر کہتے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں قوم سے تو فقط مذاق کرتے ہیں بلکل ویسے جیسے کافر کیا کرتے تھے
جب یہ لوگ ارض پاک کی ماٶں کی گودیں اجاڑ دیں صرف اسلیےکہ تمہارے بیٹے نے ختم نبوت کا نعرہ کیوں لگایا تو یہ اسلام کی بیٹی عافیہ صدیقی کو رہا کیسے کرواٸیں گے جس کو انہوں نے خود دشمنوں کے حوالے کیا اگر یہ واقعی پاکستان اور اسلام سے مخلص ہوتے تو ریمنڈ ڈیوس کے بدلے عافیہ کو مانگتے پر یہ بلا کہ منافق ہیں۔
وزیر مذہبی امور نے یہ بتا دیا عیساٸیوں سکھوں اور یہودیوں کو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جے شری رام ، میری کرسمس، جے گرنانک کہنا تو جاٸز ہے لیکن "تاجدار ختم نبوت" اور "من سبا نبیا فاقتلوہ" کہنا جرم ہے
جس کی سزا سرعام مسلمانوں کے سینوں پہ گولیاں چلا کر دی جاتی ہے۔ ہمیں اب اپنی آنکھیں کھولنا ہونگیں حق تکلیف دہ ہے سچ کڑوا ہے مگر ہمیں اسے دیکھنا ہے سننا ہے اور فیصلہ کرنا ہے
کیا ہم یہ چاہیں گے کہ قاٸد اعظم اور اقبال کی محنت کا ثمر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر حکمرانوں کے سپرد کر دیا جائے اور ہماری آنے والی نسلیں پھر بے راہ روی کی راہوں پہ گامزن ہو جائیں، دنیا بھی خراب اور آخرت بھی خراب اسلیے اندھی تقلید سے باہر آٸیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری بن کر اسکے مستقبل کے بارے میں سوچیں نہ کہ جیالے ،لیگی، اور ٹاٸیگرز بن کر سوچیں کیونکہ نواز، نیازی زرداری ان سب نے باہر چلے جانا ہے انکی نسلیں یورپ و مغرب کی زر خرید غلام ہیں مگر آپ نے یہاں رہنا ہے آپکی نسلوں کا مستقبل یہاں سے جڑا ہے اسلیے آج ہوش کے ناخن لیں
یاد رکھیں انکے اعمال اور انکی غداریوں اور ظلم کا وبال صرف ان پہ ہی نہ ہو گا بلکہ ان سب پہ بھی ہو گا جنہوں نے ان غداران اسلام اور پاکستان کو اپنے ووٹ ، اور اپنے مال و قلم سے تقویت دی اگر یہاں حساب سے بچ بھی گئے تو روز محشر نہ بچ سکیں گے اسلیے انکے دفاع میں جھوٹی منطقیں گھڑنے سے بہتر ہے کہ انکا احتساب کریں اور باطل کے خلاف ڈٹ کے کھڑے ہوں۔
اقبال نے فرمایاتھا :
تھے تو وہ آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو۔۔۔۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فرداں ہو
اس ارض پاک کی آبیاری مسلمانوں نے اپنے لہو سے کی ہے اس پہ کسی سیکولر کا کوٸی حق نہیں اسلام اقلیتوں کو حقوق دیتا ہے ہم اسلام کے احکام کی تکمیل کرتے ہیں لیکن اسلام اقلیتوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی حقوق دیتا ہے لیکن آج سیکولر حکمران مسلسل مسلمانوں کی حق تلفی کر رہے ۔
اقبال نے فرمایاتھا :
یورپ کی غلامی پہ ہوا رضا مند تو ۔۔۔ مجھ کو گلہ یورپ سے نہیں تجھ سے ہے
از قلم : شمسہ بتول
Tags
TLP PAK
ما شاء الله ،
ReplyDelete