آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی حد
آج دنیا کا گھٹیا ترین شخص اٹھتا ہے اور نعوذبااللہ قرآن کو نذرِ آتش کر دیتا ہے لیکن کوئی اس ملعون کو لگام ڈالنے والا نہیں ہوتا۔عالمِ کفر اتنا بے باک ہو چکا ہے کہ جب جی چاہتا ہے مقدساتِ اسلام کے خلاف مغلظات بکنا شروع کر دیتا لیکن کوئی ایسا مسلم ملک کا حاکم نہیں ہوتا جو دنیا کو بتائے کہ ہم اپنے دین کی عزت و آبرو پر کسی حوالے سے بھی کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے چاہے وہ حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ناموس کا مسلہ ہو یا قرآن کریم کی حرمت کا معاملہ۔
مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان آج رونا پیٹنا تو کرتے ہیں کہ قرآن کی توہین ہوئی ہے لیکن اس توہین کو روکنے کے لئے جو راستہ اختیار کرنا چاہیئے اس پر چلنے سے آج بھی گریزاں ہیں بلکہ اگر کوئی یہ بتائے کہ اس طرح مقدساتِ اسلام کی عزت محفوظ ہو سکتی ہے تو یہ بے حس اور سیاسی لا شعوری کا شکار یہ لوگ اس کے منہ کو آتے ہیں۔آج مسلمان توہینِ قرآن پر نالہ و فریاد تو کرتے ہیں لیکن اگر کوئی کہے کہ قرآن کی تعلیمات کے عملی نفاذ کے لئے جد و جہد کرنے والی جماعت لبیک یا رسول اللّٰہﷺ کو پرچی دو اور دین کو تخت پر لانے کے لئے اس جد و جہد میں شامل ہو جاؤ تو سو طرح سے بہانے گھڑتے ہیں۔کتنی بڑی منافقت ہے کہ قرآن کو جلائے جانے پر تو آپ مذمتی جملے بول دیتے ہیں لیکن جب کہا جائے کہ اسی قرآن کی حکمرانی اپنے ملک میں یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی عزت محفوظ ہو اور کوئی ملعون قرآن کی عزت کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے تو آپ کو دنیاوی مفادات یاد آ جاتے ہیں، آپ کو کھمبوں،نالیوں اور سڑکوں کے مسائل گھیر لیتے ہیں اور آپ کی ترجیحات یکسر بدل جاتی ہیں۔یاد رکھئے آپ دنیا سے قرآن کی عزت تبھی کروا سکیں گے جب آپ اپنا حکمران قرآن کو بنائیں گے۔جب حکمرانی قرآن کے پاس ہو گی تو نہ کوئی مقدساتِ اسلام کی توہین کی جسارت کر سکے گا اور نہ ہی دنیا میں کسی کافر کو مسلمانوں کی عزت اور جان و مال کو لوٹنے کی جرات ہو گی مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانانِ پاکستان اللّٰہ کی زمین پر قرآن کی حکمرانی کو قائم کرنے کے لئے عملی طور پر تحریک لبیک یا رسول اللّٰہﷺ کا دست و بازو بنیں۔
قرآن کی عزت کی حفاظت کے لئے آپ کو اپنی ذاتی خواہشات و تعیشات کو خیر آباد کہنا ہو گا، پیٹ کے دھندوں سے باہر نکل کر صرف اور صرف اسلام کے لئے سوچنا ہوگا۔جب اسلام کا نظام قائم ہو جائے گا تو مسلمانوں کے دنیاوی مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔اگر آپ محض پُلوں اور پلازوں کی تعمیر میں لگے رہے،حصولِ خشت و سنگ کے لئے لبرل سیاستدانوں کی چاپلوسیاں کرتے رہیں گے اور رنگین در و دیوار کے مالک بننے کے لئے مغرب کے پروردہ سیاستدانوں کے آگے ماتھے رگڑتے رہیں گے تو یاد رکھیے نہ آپ کو یہ چند ٹکوں کے دنیاوی مفادات حاصل ہوں گے اور نہ ہی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت محفوظ ہو گے۔یہ حکمران تو آئی ایم ایف جا کر قرض لے آتے ہیں جو کہ صرف اپنے محلات اور جائیدادوں پر خرچ کرتے ہیں جبکہ وہ قرض پاکستانی عوام کے ذمے واجب الادا ہوتا ہے۔ہر گزرتے وقت کے ساتھ پاکستان کے عوام پر یہ سودی قرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اس لئے اب آپ کو یورپی صناعوں کے تراشیدہ اصنام کے آگے سجدہ ریزیاں کرنے کی بجائے قرآن کی حکمرانی کے لئے تحریک لبیک کا ساتھ دینا ہو گا۔یہ فرنگی آزری کے نمونے پاش پاش کرنا ہوں گے تبھی مسلمان اقوامِ عالم میں باوقار طریقے سے جینے اور سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوں گے۔

very nice
ReplyDelete