Collapsing Economy and Stealing Billions of Tax by Govt

سونے والو یعنی (پاکستان والو)جاگتےرہیو

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے،

سونے والو،۔۔۔۔۔!!! یعنی (پاکستان والو) جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
"تحریک لبیک پاکستان" کے (مرکزی امیر محترم علامہ حافظ سعد حسین رضوی) صاحب کا باقاعدہ /تصدیق شدہ آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ/ نون لیگ کی عوام دشمن پالیسوں پر ٹویٹ کرنے کی وجہ سے نون لیگ حکومت نے ڈیلیٹ کروا دیا ہے،
اور وہ ٹویٹ تھا پیٹرول کے متعلق قیمتوں کے بارے میں،
حیرت انگیز انکشافات اب ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں،

اسوقت پاکستانی حکومت عالمی مارکیٹ سے پٹرول 100 روپے لٹر خرید رہی ہے،
اور 215 روپے لٹر عوام کو بیچ رہی ہے،
یعنی ایک لٹر پر 115 روپے حکومت عوام سے منافع کما رہی ہے،
پاکستان میں /عالمی سروے/ کے مطابق روزانہ 556000 بیرل پٹرول استعمال ہوتا ہے،
ایک بیرل میں 159 لٹر پٹرول موجود ہوتا ہے،

اس حساب سے عوام دوست حکومتِ پاکستان اپنی عوام سے روزانہ 10962096000 روپے یعنی تقریبا 11 ارب روپے منافع کما رہی ہے،
جو عوام الناس کی جیبوں سے صرف پٹرول کی مد میں نکل رہا ہے،
پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے،
اگر 11 ارب روپے کو بائیس کروڑ آبادی پر تقسیم کیا جائے تو فی بندہ 50 روپے روزانہ سویرے سویرے خالی پیٹ حکومتِ پاکستان کو ادا کر رہا ہے،
جسمیں عورتیں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں،
اگر بچوں، عورتوں اور بغیر گاڑیوں موٹر سائیکلوں والے افراد کو اس کیلکولیشن سے نکال دیا جائے،
تو پاکستان کے بقایا شہری تقریبا 124 روپے فی لیٹر غنڈہ ٹیکس حکومت کو دے رہے ہیں،

لیکن خزانہ پھر بھی خالی ہے۔
قرضوں کے بغیر ملکی نظام چلانا انگریز کے دلالوں کیلیے ممکن نہیں،
یاد رہے،۔۔۔۔!!! یہ حساب کتاب صرف پیٹرول کا کیا گیا ہے۔ باقی ماچس سے لیکر /اشیائے خوردونوش/ اور روزمرہ ضروریات زندگی کی ہر چیز پر گورنمنٹ کے عائد کردہ سترہ فیصد ٹیکس کا حساب کتاب الگ ہے،

(اب آہیں حکومت کا دین دشمنی کی طرف ایک اقدام کی جانب،)

گستاخانہ مواد آئے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ 
اس پر پابندی کا عوامی مطالبہ بھی ہے،
اور اس پر ہائی کورٹ کا واضح حکم بھی ہے،
اور سپریم کورٹ میں بھی "تحریک لبیک" نے حکومت کو تھوڑے دن پہلے اپنی پٹیشن واپس لینے پر مجبور کیا،
لیکن حکمران /یہود و نصارٰی/ کی خوشنودی میں اس پر پابندی نہیں لگا پا رہے۔

دوسری طرف ملک کی پہلی بڑی "مذہبی سیاسی جماعت" اور "تیسری بڑی سیاسی جماعت" کے /سربراہ/ کا ایک عوامی مفاد عامہ سے متعلق کیا گیا ٹوئٹ انہیں ہضم نہ ہوسکا،

اسلیئے آپ اندازہ لگائیں کے مہنگائ میں پسّے عوام کے حق میں ٹوئٹ کرنا بھی ظالم و جابر حکمرانوں سے برداشت نہ ہوسکا،
یہ عوامی آواز کو دبا کر یہودونصارٰی کی خوشنودی میں کس حدتک جاسکتے ہیں،یہ انداۃ لگانا کوئ مشکل کام نہیں،۔۔۔!!!


2 Comments

Previous Post Next Post