بانیِ تحریک لبیک یا رسول اللّٰہﷺ (پاکستان)امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللّٰہ علیہ کا بات نیوز پوائنٹ کو دیا گیا انٹرویو
سوال:کیا آپ الیکشن کے نتائج سے مطمئن ہیں؟
جواب:مطمئن تو ہم نہیں ہیں لیکن بڑے بڑے برج الٹ گئے اور دنیا کو پریشانی ہوئی کہ یہ لوگ کہاں سے آگئےہیں!ان لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اچانک نہیں آئے ہم نے ناموس رسالت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے محافظوں کے عمل کو امت کے سامنے پیش کرنے کے لیے بہت جدو جہد کی ہے۔
سوال: پولنگ کے دوران آپ کے ووٹرز کو کیا مشکلات پیش آئیں؟
جواب: ہماری پرچی دیکھ کر لوگوں کو بہت تنگ کیا گیا،کہا گیا کہ آپ کا ووٹ یہاں نہیں ہے اور کافی لوگوں کو تو ووٹ ڈالنے کے لیے اندر داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا کیمپ اور بینرز تک اکھاڑ کر پھینک دیے گئے۔
سوال:آپ کو ان انتخابات کے نتائج سے کیا امید تھی؟
جواب:ہمیں اس سے کئی درجے بہتر نتائج کی امید تھی لیکن ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی اور بہت سے معاملات میں ہمیں نقصان پہنچایا گیا۔
سوال: میڈیا نے آپ کو نظر انداز کیا، آپ نے خود سے کچھ جاننے کی کوشش کی کہ میڈیا کا کردار آپ کے معاملے میں اتنا منفی کیوں ہے؟
جواب:اس کے پیچھے وہ غیر اسلامی اور طاغوتی طاقتیں ہیں جن کو ہمارا منشور بہت سخت لگتا ہے حالانکہ ہمارا منشور تو قرآن و حدیث پر مبنی ہے اور بہت آسان اور سادہ ہے۔
سوال: آپ سیاست میں آئے ہیں تو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: کوئی مشکلات نہیں ہیں یہ تو آسان کام ہے اگر اس میں خلوص ہو اور مقصد دنیاوی چیزوں کا حصول نہ ہو تو یہ بہت لطف والا کام ہے۔
سوال:آپ الیکشن محدود ہو کر لاہور سے یا پورے پاکستان سے لڑیں گے؟
جواب:ہم پورے ملک سے بشمول آزاد کشمیر الیکشن میں حصہ لیں گے۔
سوال:ایم پی اے اور ایم این اے کے امیدواروں کے انتخاب کے لیے آپ کا کیا کرائٹیریا ہوگا؟
جواب: ہماری شرائط پر جو بھی پورا اترے گا اس کو ہم آگے لائیں گے۔
سوال:آپ کے بارے میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ علامہ صاحب کا رویہ بڑا سخت ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے۔
جواب:آپ بھی آئے ہیں آپ نے کیا محسوس کیا؟
بقول شاعر
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کر تھانے میں
کہ مولوی خادم ناموس رسالت کانام لیتاہےاس زمانےمیں
بس یہی میرا جرم ہے




Labaik ya Rasoolallah
ReplyDeleteGood Job
ReplyDelete