تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ اور قرآن پاک کس کا حق ۔۔۔۔۔"

 تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور قرآن پاک کس کاحق...!!
تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ اور قرآن پاک کس کا حق ۔۔۔۔۔"

ایک مسلمان ہونے کے باوجود ہم نے عجب معاملات پیدا کر لیے ہیں کہ جن معاملات پر ہمیں چیخ و پکار کرنی چاہیے اور اپنی جانیں دینے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے ان معاملات پر ہم گونگے شیطان بن جاتے ہیں اور جن معاملات پر ہمیں بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ان معاملات میں ہم کہتے ہیں

ہمارے جیسا ہے ہی کوئی نہیں۔

مثال کے طور پر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور حرمت قرآن پاک پر پہر ادینا ہر مسلمان کا بنیادی فرض ہے مگر وہاں ہم ایسے خاموش نظر آتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور گلی محلوں، ذات پات کی لڑائیوں میں ہم ایسے نظر آتے ہیں کہ جیسے یہ معاملہ ہماری زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے مطلب ہر لحاظ سے ہم الٹ چل رہے ہیں۔

ہم نے اپنی زندگیوں کے اصول و ضوابط ہی الٹ طریقے سے بنا لیے ہیں اور ہمیں پتا ہی نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔ ہم تیز ہواؤں اور آندھیوں کا مقابلہ کرنے والے نہیں بلکہ ہواؤں کے سہارے اڑنے والے پنچھی بن گئے ہیں جس کو ہوا جہاں چاہے اڑا کر لے جائے یعنی ایک لفافے اور ایک پنچھی میں کیا فرق رہ جاتا ہے ہواؤں کے سہارے تو لفافے بھی اڑ لیتے ہیں پنچھی تو وہ ہوتا ہے جو ہواؤں کا مقابلہ کرتا ہے اور ہواؤں کی تیزی کو چیرتا ہوا ہوا کے مخالف اپنی منزل پر پہنچنے کی جستجو جاری رکھتا ہے۔

جس طرح کہ علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

 یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

یعنی ایک عقاب کو تیز ہواؤں سے گھبرانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے بلکہ اپنی مزید ہمت و بہادری سے ہواؤں کو چیرتے ہوئے اپنی منزل تلاش کرنی چاہیے نہ کہ خود کو ہوا کے سہارے چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ جہاں چاہے اس کو پہنچادے۔

بات بہت آگے کی طرف نکل گئی اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف کہ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد تیز ہواؤں کا مقابلہ کرنا ہے جو اسے اڑانے کے لیے ابھار نا چاہتی ہیں مگر آج کے مسلمان نے خود کو تیز ہواؤں اور آندھیوں کے سہارے چھوڑ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے اصل مقصد سے بہت دور ہو کر رہ گیا ہے اور ہر جگہ رسوا ہو رہا ہے۔

اب جبکہ اس گہما گہمی اور پرفتن دور میں اہل کفر ایک طرف مسلمانوں کی خوں ریزی کر رہا ہے اور دوسری طرف شعائر اسلام پر حملہ آور ہو رہا ہے تو ایسے میں ایک مسلمان کا خاموش رہنا، اپنے ایمان اور جان و مال کے لیے سر نہ اٹھانا، آواز بلند نہ کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی مر چکی ہے اور مسلمان صرف نام کا مسلمان رہ گیا ہے۔جب اہل کفر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور حرمت قرآن پر بار بار حملہ آور ہو رہا ہے تو ایک مسلمان اتنا خاموش، آخر کیوں؟

جبکہ ایسے معاملات پر پوری مسلم امہ کو سراپا احتجاج ہونا چاہیے تھا مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا میں صرف کچھ لوگوں کی ہی غیرت جاگی کچھ لوگوں نے ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

اب پاکستان جس کو پاکستانی اسلام کا قلعہ کہتے ہیں یہاں پر ایک جماعت کے علاوہ کسی نے بھر پور احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا۔

مطلب مسلمان صرف تحریک لبیک والے ہی ہیں؟

آپ نے صرف نام کا کلمہ پڑھا ہوا ہے؟ یا پھر آپ صرف دنیا دار کمینوں کی شخصیت پرستی کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ یا صرف مال جمع کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ جبکہ غیرت ایمانی کا تقاضا یہ تھا کہ پوری قوم کو سراپا احتجاج ہونا چاہیے تھاہر ایک کو اپنی حیثیت کے مطابق اقدامات کرنے چاہیے تھے مگر افسوس قوم کی اکثریت گونگے شیطان بنی ہوئی ہے۔ آخر کیوں؟

ایک صدر کو اپنی حیثیت کے مطابق بیان دینا چاہیے تھا، ایک وزیر اعظم کو سفیر کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کرنا چاہیے تھا،ایک چیف آف آرمی اسٹاف کو اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا بلکہ ہر ادارے کو اپنی حیثیت کے مطابق مسلمان ہونے کے ناطے اقدامات کرنے چاہیے تھے۔ چاہے کوئی پولیس والا ہو یا وکیل، ڈاکٹر ہو یا صحافی ہر ایک کو غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ سراپا احتجاج ہو نا چاہیے تھا۔ یہ کسی کی ذات کا نہیں ہمارے ایمان کا مسئلہ تھا ایک پولیس والے کا کام صرف بڑوں کا حکم مانا ہی نہیں بلکہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور تحفظ قرآن پاک کے لیے آواز اٹھانا اس کا بھی اتناہی حق ہے جتناعام عوام کا، ایک صحافی کا کام صرف الفاظ قلم بند کرنا ہی نہیں بلکہ اس کو بھی چاہیے کہ تحفظ قرآن پاک کے لیے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرے یعنی جب پورے کا پوراملک مسلمانوں کا ہے تو پھر ہر ایک کو کہیں نہ کہیں تو غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے طور پر اقدامات کرنے چاہئیں اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم اتنے بے غیرت نہیں جو اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہ کر سکیں۔ مگر افسوس ابھی تک ہم میں ایسی کوئی ایمانی جھلک نظر نہیں آئی جبکہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کے لیے اقدامات کرنا ہر مسلمان کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے وگر نہ پھر اس بار ابابیل کو کنکر ابرہہ کے لشکر پر نہیں بلکہ مسلمانوں پر گرانے چاہئیں جو مکمل طور پر بے حس ہو چکے ہیں۔ 

گرافکس 







3 Comments

Previous Post Next Post